سہیل وڑائچ کی حیران کن پیشگوئی

نامور تجزیہ کار سہیل وڑائچ بیی بی سی کے لیے اپنے ایک مختصر تجزیہ میں لکھتے ہیں۔ تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ سعودی عرب سے کسی حد تک دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کم ہو جائے گی۔

لیکن یہ خلیج اب ختم نہیں ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آتی تھی تو اس کو ظاہر نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ترکی، ملائشیا، ایران اور پھر پاکستان کے درمیان بنتے ہوئے بلاک پر سعودی عرب کو تحفظات تھے، جبکہ اسی طرح کشمیر کے معاملے پر اسلامی ملکوں کی نتظیم کا اجلاس بلانے کے بارے میں سعودی عرب اپنی پالیسی پر کاربند ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے بارے میں سعودی عرب کی طرف سے او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے کے بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو بیان دیا ہے، اس میں الفاظ غیر مناسب ہو سکتے ہیں لیکن وہ ریاستی پالیسی کی بات کر رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی نے سخت لہجے میں کہا تھا، کہ اب پاکستان خود اس حوالے سے او آئی سی کا اجلاس طلب کرے گا۔ وزیر خارجہ کے بیان کو او آئی سی میں سعودی عرب کی قیادت کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ، پاکستان آپ سے وہ کردار ادا کرنے کے لیے کہہ رہا ہے جس کی مسلمان آپ سے توقع کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ کشیدگی کا سبب بنے گا لیکن کشمیریوں کو مارا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *