’’اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی لیے زمین کب الاٹ کی گئی تھی اور۔۔۔ ‘‘ اب فسادات کون پھیلا رہا ہے؟ حکومت نے واضح کر دیا

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) گزشتہ کئی دنوں سے مندر کو فنڈ دینے کے بارے میں باتیں گردش کر نے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری صاحب بھی میدان میں آگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی خواہش ہے کے تمام علمائے کرام ایک پیج پر ہو۔ ریاست اقلیت کے حقوق کا تحفظ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مندر کو زمین 2017 میں دی گئی تھی۔

لیکن ابھی تک فنڈ دینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا کہنا ہے کہ ہمارے لوگ ویسے ہی تضاد کا شکار ہیں۔ ہم نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے۔ کہہ میں فنڈ دینا چاہیے یا نہیں۔ یہ فیصلہ ابھی باقی ہے۔اسلام آبادمیں 2017میں مندرکیلئےزمین دی گئی تھی، اسلام اقلیتوں کےحقوق کادرس دیتاہے، پاکستان کی پالیسی تمام مسالک کیلئے ایک جیسی ہیں، ملکی پالیسی سب کیلئے یکساں ہے،حکومت کی خواہش ہے تمام علما کرام ایک پیج پر ہوں،فسادات پھیلانے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں، ریاست اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔پیر انوار الحق قادری کا کہنا تھا کہ مندرکےحوالے سےکافی بحث ہو چکی، سعودی عرب،ایران کشیدگی میں پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا،وزیراعظم عمران خان اس حوالےسےبہت اچھی سوچ رکھتے ہیں۔دوسری جانب مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ’اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو حق ہے کہ جہاں انکی آبادی کے لئے ضروری ہو وہ اپنی عبادت گاہ برقرار رکھیں اورپاکستان جیسے ملک میں جو صلح سے بناہے وہ ضرورت کے موقع پر نئی عبادت گاہ بھی بنا سکتے ہیں لیکن حکومت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے خاص طورپر ایسی جگہ، واضح رہے کے مندر کی خبر آنے کے بعد سیاسی پارٹی میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اور عوام نے بھی اس کی شدید مخالفت کی۔ جس کی وجہ سے حکومت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *