اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کیوں روک دی گئی ؟ وہ حقائق منظر عام پر آ گئے جس کے بارے میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جہاں مندر کے کام کو بند کرنے کی سب سے بڑی وجہ عوام کا شدید رد عمل اور اپوزیشن پارٹیوں کا کا احتجاج شامل ہیں وہاں ایک اور مسئلہ بھی سامنے آگیا ہے۔ جس پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے انہیں آگاہ کر دیا ہے۔سی ڈی اے کے ترجمان مظہر حسین کا کہنا ہے کے مندر کی تعمیر کے لئے کوئی نقشہ نہیں بنایا گیا ہے۔

جس کی وجہ سے مندر کی تعمیر کی کام کو روک دیا گیا ہے مندر کی تعمیر کیلئے بلڈنگ پلان موصول ہونے کے بعد تعمیر شروع ہو سکتی ہیں۔مندر پلان کا جائزہ لے کر تعمیر کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح سی ڈی اے چئیرمین عامر احمد علی نے ایک چینل کو بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں اراضی سے متعلق کوئی تنازع نہیں۔ دو مرحلے ہوتے ہیں جن میں دیکھاجاتا ہے کہ جگہ منظور شدہ ہے اور ’’الاٹمنٹ لیٹر‘‘ بھی موجود ہے، بعد میں بلڈنگ پلان یا نقشہ دینا ہوتا ہے۔اب نقشہ بناکر جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔ کل پیر کو عملہ مندر کی تعمیر کیلئے زمین کا جائزہ لے گا۔ واضح رہے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر خبریں گردش کررہی تھیں کہ مندر کی تعمیر کو حکومت نے دباؤ میں آکر روک دیا ہے۔ لیکن حکومتی بیانات میں اس تاثر کی تردید بھی کی گئی۔ یاد رہے گزشتہ روز وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہندو مندرکے حوالے سے کافی بحث ہو چکی۔اسلام اقلیتوں کے حقوق کا درس دیتا ہے۔ اسلام آباد میں2017ء میں مندر کیلئے زمین دی گئی تھی۔ ابھی تک مندر کیلئے فنڈز نہیں دیے گئے۔ فنڈز دینے سے متعلق فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ مندر کی تعمیر کیلئے فنڈز دینا چاہیے یا نہیں۔ مندر کی تعمیر کیلئے فنڈز کا فیصلہ اسلامی نظریاتی کونسل کرے گی۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی اور مشاورت حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے بعد مندر کی تعمیر کیلئے فنڈز سے متعلق فیصلہ وزیراعظم کرینگے۔ اس حوالے سے تمام تر سماجی اور مذہبی پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ ہوگا۔ یاد رہے مندر کی تعمیر کی خبریں سامنے آنے کے بعد عوام میں اور مذہبی پارٹیوں میں تشویش کی لہر دوڑ چکی ہیں اس پر صرف مذہبی پارٹی ہی نہیں بلکہ عوام نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اور اس کے خلاف بھرپور احتجاج بھی کیا ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *