اسے کہتے ہیں سجی دکھا کر کھبی مارنا ۔۔۔!!! وزیراعظم عمران خان تمام اتحادیوں کو ایک پیج پر کیسے لے آئے؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ فیشن نے ویسے ہی شور مچا کے رکھا ہیں اپوزیشن خود بھی ایک بات پر قائل نہیں ہے ایک گروپ مائنس ون جبکہ دوسرا گروپ نئے انتخابات کی بات کر رہا ہےاور تیسرا قومی حکومت چاہے ہیں پہلے تو یہ خود فیصلہ کریں کہ یہ چاہتے کیا ہے۔

 

کہ اتحادی ہمیں چھوڑنے نہیں جا رہی ہیں اسد عمر کا کہنا ہے کہ سول ملٹری کے ساتھ اب جیسے تعلقات ہیں اس سے پہلے نہیں تھی۔جی ڈی اے کو سندھ میں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا ہے کہ کیا اپوزیشن کے گفتگو میں جو درد برا ہے وہ ہمیں سنائی دے رہا ہے پہلے تو وہ خود فیصلہ کرے کہ وہ چاہتے کیا ہیں ایک گروپ مائنس ون ، دوسرا قومی حکومت جبکہ تیسرا نئے انتخابات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ایسا تاثر بنانے کی کوشش کی ہے جیسے بجٹ پاس کروانے میں ناکامی پر حکومت ختم ہو جائے گی۔ پہلے خود تو کسی ایک چیز پر اتفاق کرلیں کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ میں حکومت ک اتحادیوںکے ساتھ مذاکرات میں شامل تھا جبکہ تحریک انصاف کے ایم این ایز کے ساتھ مذاکرات کا بھی حصہ تھا صرف اختر مینگل نے کہا کہ ابھی ساتھ نہیں چل سکتے۔ اختر مینگل نے کہا کہ اگر بلوچستان کے لئے کام کیا جائے گا تو ساتھ دوں گا۔اسد عمر نے کہا کہ اتحادیوں کے تحفظات اب بھی ہیں جو وقت کے ساتھ دور کر رہے ہیں۔ ہم نے کبھی اپنے ارکان اسمبلی سمیت اتحادیوں کے تحفظات سے انکار نہیں کیا۔ اتحادی ہمیں چھوڑ کر نہیں جارہے۔ جی ڈی اے کے مطابق سندھ میں انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ فہمیدہ مرزا نے شکوہ کیا ہے کہ ان کے حلقے پر سندھ حکومت توجہ نہیں دے رہی۔ جبکہ مسلم لیگ ق کے بھی تحفظات ہیں لیکن ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا ہوا تھا اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بجٹ منظور نہ ہونے کی صورت میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے والی ہے۔

 

کوئی بھی حکومت ہو اس طرح کی خبریں چلتی رہتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کرپشن کرنے والوں کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے اس لئے ایسی باتیں تو ہونگی۔ اس لئے ان پر تنقید کی جارہی ہے۔ حکومت نے شوگر مافیا کے خلاف ایکشن لیا جس کی وجہ سے مزید قیمت بڑھنے سے رک گئی ہے۔ شوگر تحقیقاتی رپورٹ پر اپوزیشن نے بہت قیاس آرائیاں کیں، پہلے کہا گیا کہ تحقیقاتی رپورٹ نہیں آئے گی پھر موقف اختیار کیا گیا کہ فرانزک رپورٹ سامنے نہیں لائی جائے گی۔ جبکہ اس کے برعکس وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف رپورٹ پبلک کی بلکہ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا بھی حکم دیا۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ عمران خان ملک سے کرپشن کا خاتمہ بالکل ایسے ہی کریں گے جیسا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ اسد عمر نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ماضی میں سول ملٹری تعلقات ایسے نہیں رہے جیسے اب ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن خود ایک بات پر قائل نہیں ہے کوئی مائنس ون کی بات کر رہا ہے تو کوئی قومی حکومت کی بات کر رہا ہے اور کوئی نئی انتخابات کی بات کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *