اس مثال کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا

دیہاتوں میں چور عام طور پہ چوری کا ایک طریقہ اپناتے ہیں۔ وہ جس گھر میں چوری کا ارادہ کرتے ہیں اس گھر میں دو تین پتھر پھینکتے ہیں اور وہ دو تین بار وقفے وقفے سے ایسا کرتے ہیں۔ اگر گھر والوں کی طرف سے کوئی رد عمل آئے مثلا کوئی زور سے کہے ” کون ہے باہر ؟؟؟ “ یا پھر لائٹ کھل جائے یا پھر صحن میں کوئی چلتا پھرتا محسوس ہو تو چور اس گھر میں چوری کا ارادہ ملتوی کردیتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس اگر ان چھوٹے چھوٹے پتھروں کے جواب میں کوئی ردعمل نہ آئے تو چور اب پوری تیاری کے ساتھ آتے ہیں اور نقب لگا کر چلے جاتے ہیں۔

اس مثال کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ختم نبوت کی شق ہٹانے ، نہ ہٹانے ، قادیانیوں کو کسی کمیٹی میں شامل کرنے کی تجویز یا پھر الفاظ کے معمولی ردوبدل کو آپ معمولی نہ سمجھیں کیونکہ یہ وہ پتھر ہیں جس سے چور وقتاً فوقتاً آپ کی بیداری کا اندازہ لگا رہا ہے۔ جیسے ہی آپ نے رد عمل دکھانا بند کیا یا کم کیا، اصل نقب لگادی جائے گی۔ اس لئے قادیانیوں اور ختم نبوت سے متعلق کسی بھی معاملے کو ہلکا نہ لیں اور نہ ہی کسی قسم کی مصلحت برداشت کریں۔
منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *