اللہ ہم سب کو نیک اور صالح بیویاں عطا کرے

ایک شوہر اپنے بیوی کو ہر وقت مارتا رہتا تھا ایک دن اپنی بیوی کو اپنے بچوں کے سامنے بڑی بے دردی سے مارا پیٹا جس کی وجہ سے بچے بھی خوفزدہ ہوگئے اور بیوی بھی رونے لگی بیوی نے کہا مارا تو آپ کی معمول کی کام ہے لیکن اس بار میں صرف اپنی بچوں کی وجہ سے رو رہی ہو اور اس بار میں آپ کے بارے میں شکایت کروں گی شوہر نے کہا کہ تمہیں کیا لگتا ہے کیا میں آپ کو کسی کے پاس جانے دوں گی۔

بیوی نے کہا کے تمہیں کیا لگتا ہے صرف دروازہ بند کرنے سے کوئی میری شکایت نہیں سونے کا شوہر نے کہا کیسی تو شکایت ہوگی جس کے ساتھ رابطہ کروں گی میں آپ کو فون پر بھی کسی کے ساتھ بات کرنے کو نہیں دوں گا اس کے بعد بیوی حمام کی طرف گئی شوہر نے سمجھا شاید یہ حمام کی کھڑکی سے بھاگنے کی کوشش کرے گی، اسی لیے بھاگ کر جلدی سے حمام کے باہر کھڑکی کے پاس کھڑا ہوکر انتظار کرنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ عورت نکلنے کی بالکل کوشش نہیں کررہی ہےتو وہ واپس اندر آیا اور اور حمام کے دروازے کے پاس آکر کھڑا اس کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ حمام سے باہر نکلی تو چہرہ وضو کے پانی سے تر تھا اور لبوں پر بہت ہی پیاری سی مسکراہٹ سجارکھی تھی۔ اس عورت نے کہا، میں تیری صرف اس سے شکایت کروں گی جس کے نام کی تو قسم اٹھاتا ہے اس سے مجھے تیری بند کھڑکیاں تیرے مقفل دروازے اور موبائلوں کی ضبطگی سمیت کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی، اور اس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے ہیں۔ شوہر نے اپنا رخ بدلا اور کرسی پر بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اندر جاکر بیوی نے نماز اداکی اور خوب لمبا سجدہ کیا،شوہر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔

جب وہ نماز سے فارغ ہوکر بارگاہِ ایزدی میں دعا کے لئے اپنے ہاتھوں کو اٹھانے لگی تو شوہر اس کی طرف لپکا اور ہاتھوں کو پکڑ لیا، اور کہا کہ سجدے میں میرے لیے کی گئی بددعائیں کافی نہیں ہیں؟ عورت نے پرسوز لہجے میں کہا کہ تیرا خیال ہے کے میں اس سب کے بعد بھی جو تونے میرے ساتھ کیا ہے، اتنی جلدی اپنے ہاتھ نیچے کرلوں گی؟ شوہر نے کہا کہ بخدا!یہ سب مجھ سے غصہ میں ہوا ہے میں نے قصداً نہیں کیا۔ بیوی نے کہا اسی لئے میں تیرے لئے تھوڑی دعا پر اکتفا نہیں کرسکتی۔ اللہ ہم سب کو نیک اور صالح بیویاں عطا کرے اور جن کی بیویاں ہے اللہ ان کی بیوی کو نیک کرے آمین یا رب العالمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *