اور وہ رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں انتقال کر گیا

اس کے گھر میں فرنیچر دنیا کے بڑے بڑے ملاقات ممالک سے امپورٹ کیا گیا تھا اس کی باتوں میں پہن کر جانے والی چپل کی ہزار ڈالر کی تھی غرض یہ کہ دنیا کی کوئی نعمت ایسی نہیں تھی جو اس شخص کے پاس نہ ہوںوہ دنیا کی جو چیز چاہے با آسانی خرید سکتا تھا وہ دین سے کوسوں دور صرف نام کا مسلمان تھا۔

لیکن اس کی زندگی میں انقلاب آیا اور اس کی زندگی کا روح موڑ گیا ایک دن ڈاکٹر نے اس سے بتایا کہ وہ اس کو کینسر ہو گیا ہے اور وہ صرف سات ماہ کا مہمان ہے جب ڈاکٹر کسی مریض کو اسکی بیماری کا بتاتے ہیں تو مریض آدھے ویسی ہی مر جاتا ہے پر وہ شخص مایوس نہ ہوا اور اس بیماری کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور نہ امید نہیں ہوا اس نے سات ماہ کو اللہ کی دی ہوئی نعمت سمجھا اور اسے سمجھ آگیا کہ اس مال و دولت کی کیا حیثیت ہے اس نے وہ سات ماہ اللہ تعالی کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کرنے میں لگا دیے تمام ڈاکٹرز یہ دیکھ کر حیران تھے کہ وہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بھی زندہ کیسے ہیں۔اس شخص کا نام علی بنات تھا اس نے اپنی ساری دولت غریبوں میں لوٹا دیںڈاکٹرز نے اسے سات ماہ کا ٹائم دیا تھا لیکن اللہ تعالی نے اسے زندگی دی اور تین سال تک زندہ رہا۔

اور وہ رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں انتقال کر گیاعلی بنات نے یہ پیغام دیا ہے کہ دنیا مال و دولت کمانے کا نام نہیں زندگی دوسروں میں خوشیاں بانٹنے کا نام ہے، علی بنات سے انتقال سے پہلے جب پوچھا گیا کہ اس کی گاڑی جو لاکھوں ڈالر کی تھی کیا قیمت ہے تو اس نے جواب دیا اس کی قیمت ایک غریب کی مسکراہٹ سے زیادہ کبھی بھی نہیں ہو سکتی۔ہمیں بھی ایک مہلت ملی ہوئی اور اور وہ نامعلوم مہلت ہیں آپ کے پاس ابھی بھی وقت ہے اپنی آخرت کی فکر کریں اور اللہ تعالی کو راضی کر لے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *