اپوزیشن کے کتنے ارکین قومی اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہونے کو تیار ہیں ؟ پاکستانی سیاست میں طوفان بھرپا کر دینے والی خبر

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت میں مائنس ون کی خبر آتی ہیں ہلچل مچ گئی ہے۔ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف ایک دوسری پارٹیوں کی اراکین کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے کوشش شروع کر دی۔ گزشتہ روز چند پنجاب پارلیمنٹ مسلم لیگ نون کے اراکین نے وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کی تھی۔ جس پر مسلم لیگ نون کی سینئر رہنما نے شدید ردعمل ظاہر کرتی ہوئی اپنے اراکین پارلیمنٹ کو شوکاز نوٹس بھیج دیں

اور اسی طرح وفاق میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ووٹ میں مسلم لیگ نون کے ساتھ رابطہ کیے۔وفاقی وزیر نے مبینہ طور پر ن لیگ کی قیادت کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کی پیشکش کی ہے۔ن لیگ کو کہا گیا کہ اگر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلائی گئی تو پی ٹی آئی کے کئی ارکان قومی اسمبلی میں اس تحریک کی حمایت کریں گے۔ اسی طرح آج معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کا ایم پی اے اشرف انصاری پی ٹی آئی کی تقریب میں چلا گیا۔لیگی ایم پی اے کو دیکھ کر شرکاء حیران رہ گئے۔ ایم پی اے اشرف انصاری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پرمنتخب ہوا ہوں۔ لیکن عمران خان کے ہر اچھے اقدام ساتھ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں جس کے باعث اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کا ساتھ دیا۔ عمران خان اپنے نظریے سے ہٹ گئے تو ساتھ چھوڑ دیں گے۔ اس موقع پر تقریب میں معاون خصوصی عثمان ڈار نے لیگی ایم پی اے اشرف انصاری کو ٹائیگرفورس کی جیکٹ اور کیپ بھی پہنائی۔ جبکہ تحر یک انصاف کی ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے تمام ڈرامے فلاپ ہوچکے ہیں

ان کا سیاسی مستقبل بھی زیر و ہے آنیوالی حکومت بھی پاکستان تحر یک انصاف کی ہوگی اپوزیشن اقتدار کے خواب دیکھنا چھوڑ دے ‘ اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف ا ے پی سی بلانا چاہتی ہیں تووہ سو بار اپنا شوق پورا کر ے الیکشن2023میں ہی ہوں گے ۔ اتوار کے روز کارکنوں سے گفتگو کے دوران تحر یک انصاف کی ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے کہا کہ اپوزیشن کی پالیسیاں حکومت کیلئے نہیں خود انکی عوام کے عوام سیاسی موت ثابت ہورہی ہے اگر اپوزیشن اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ اور احتساب سے بچائو کیلئے اے پی سی بلا چاہتی ہے توضرور بلا لیں اس کا حشر بھی ماضی کی آل پارٹیز کانفر نس جیسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو پار لیمنٹ میں اتحادیوں اور عوامی نمائندوں کا بھر پور اعتماد حاصل ہے انہوں نے مزید یہ کہا کہ وہ اپنی مدت پوری کرنے کے ساتھ آئندہ الیکشن بھی جیت گئی۔ یاد رہے یہ موقع عمران خان کے لیے بہت بڑا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اپنے اوپر عوام کا اعتماد بحال رکھے ورنہ آئندہ آنے والے الیکشن میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت پر گزشتہ سروے کے مطابق عوام نے اتنی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *