اک حقیقت پر مبنی اور مزے کی تحریر ضرور پڑھیے

بچپن میں ہم جب کوئی غلط کام کیا کرتے تھے تو اکثر ہم کوئی بہانا بنا کر ابو سے جان چھوڑانے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن جب ہم بہانا بنا کر بچ جاتے تو اکثر ہم ہی کہتے تھے۔کہ ہم نے بہانا بنا کر ابو سے بچ گئے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ وہ سمجھ کر بھی ہمیں معاف کرتے۔ ایسے ایک واقعہ اج ہم اپ بتاتے یے۔

ایک بار ایک باپ اپنے بیٹے سے ملنے شہر جاتا ہے۔ وہاں اس کے بیٹے کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی بھی رہتی ہے۔ تینوں ڈنر کی ٹیبل پر بیٹھ جاتے ہیںپاپا : – بیٹا تمہارے ساتھ یہ لڑکی کون ہے؟ بیٹا : – پاپا، یہ لڑکی میری روم پارٹنر ہے، اور میرے ساتھ ہی رہتی ہے۔ بیٹا : – مجھے پتہ ہے کہ آپ کیا سوچ رہے ہوں گے . ہم دونوں کے درمیان کوئی ایسا ریلیشن نہیں ہے پاپا۔ ہم دونوں کے کمرے بھی مختلف ہیں، اور ہملوگ الگ الگ ہی سوتے ہیں۔ ہم لوگ صرف اچھے دوست ہیںپاپا : – اچھا بیٹا دوسرے دن اس کے پاپا واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد لڑکی : – سنو، گزشتہ سنڈے تمہارے پاپا نے جس پلیٹ میں ڈنر کیا تھا، وہ پلیٹ غائب ہے۔ مجھے تو شک ہے کہ پلیٹ تمہارے پاپا نے ہی چوری کی ہوگی .. !! آدمی : – شٹ اپ ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟لڑکی : – آپ ایک بار اپنے پاپا سے پوچھ تو لو، پوچھنے میں کیا حرج ہے؟آدمی : – او کے … !! آدمی اپنے پاپا کو ای میل لکھ کر بھیجتا ہے: ڈیر پاپا!! میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ نے پلیٹ چوری …… میں یہ بھی نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ نے پلیٹ چوری نہیں کی …… اگر آپ غلطی سے پلیٹ لے گئے ہوں۔تو پلیز آپ اسے واپس کر دیں، کیونکہ وہ اس لڑکی کی پلیٹ ہے اس کے پاپا اسے ایک گھنٹے کے بعد جواب بھیجتے ہیں: ڈیر بیٹا! میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ تمہاری روم پارٹنر تمہارے ساتھ سوتی ہے . میں یہ بھی نہیں کہہ رہا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ نہیں سوتی …. اگر اس پورے ہفتے میں وہ لڑکی ایک بار بھی اپنے کمرے میں اپنے بیڈ پر سو جاتی تو تکیے کے نیچے ہی اسے پلیٹ مل جاتی جو میں نے چھپائی تھی۔ تیرا باپ واقعے باپ باپ ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *