ایک بوڑھی بیوہ ماں کی دل دہلادینے والی داستان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عید گزر چکی تھی سب بچے یہی کہہ رہے تھے کہ کل ہم میںلے جائیں گے۔ اب بیوہ بوڑھی ماں کو معلوم تھا کہ کل میرا بچہ بھی میلے پر جانے کی ضد کرے گا۔ لوگ عید کی خوشیوں میں مصروف تھیں۔ اور یہ بیوہ عورت لوگوں کے گھر میں کام کرکے پیسے جمع کرنے میں۔ جیسے تیسے کر کے کچھ روپے کما کر واپس آ گئی۔ بیٹھ کھیل کود کے بعد واپس گھر آ گیا۔ اماں کھانا کھا کر میں جلدی سو جاتا ہوں۔ کل دوستوں کے ساتھ میلے جانا ہے۔

، صبح ماں سے بولا میں نہانے جاتا ہوں، آپ ناشتہ تیار رکھنا، ماں نے روٹی بنائی، اور دودھ اب چولہے پر تھا ماں نے دیکھا برتن پكڑنے کے لئے کچھ نہیں ہے، اس نے گرم پتیلا ہاتھ سے اٹھا لیا،ماں کا ہاتھ جل گیا بیٹا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا بیٹے نے گردن جھکا کر دودھ روٹی کھائی اور میلے میں چلا گیا ، شام کو گھر آیا تو ماں نے پوچھا – میلے میں کیا دیکھا روپے کا کچھ کھایا کہ نہیں ؟ بیٹا بولا ماں آنکھیں بند کر تیرے لئے کچھ لایا ہوں ماں نے آنکھیں بند کی تو بیٹے نے اس ہاتھ میں گرم برتن اٹھانے کے لئے لائی ساڈسي رکھ دی اب ماں تیرے ہاتھ نہیں جلیں گے ۔ ۔ ۔ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ بیٹے نے کہا کہ کیوں رو رہی ہو ماں۔ ماں نے کہا پریشان نہ ہوں بیٹے کی خوشی کی آنسو ہے کیوں کہ اگر میرا بیٹا میلے کے روپوں پر میرے لیے کچھ کر سکتا ہے۔ وہ بڑا ہو کر میرا بیٹا میرے لئے خود کفیل سہارا ہوگا۔ اور بالکل اسی طرح ہوا جب بیٹا بڑا ہو گیا تو انہوں نے ماں کی ہر خواہش پوری کی اور بیوہ عورت کی آخری ایام بے حد سکون کے ساتھ گزر گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *