ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کے اعمال کا دارومدار نیت پر ہے

ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کے اعمال کا دارومدار نیت پر ہے مطلب اگر آپ کی نیت ٹھیک ہے تو آپ کی چھوٹی سی اعمال لاکھوں اور کروڑوں میں بدل جاتے ہیں اور اگر آپ کی نیت میں کھوٹ ہے یا دکھاویں کے لئے کرنا چاہتے ہو تو آپ کی بڑی سے بڑی قربانی بھی ضائع ہو سکتی ہیں۔

ایک دن میں اخبار پڑھ رہا تھا تو میں نے بالکل اس حدیث میں مبارک نیت کے بارے میں جو تشریح کی گئی تھی۔وہ خود دیکھ لی۔ہوا کچھ یوں کے مردان میں ایک مسجد بن رہی تھی ہر کوئی اپنے اہمیت کے مطابق مسجد کیلئے چندہ ڈال رہا تھاتو اس میں ایک بچہ آگیا جس نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے لیے چندا ڈال رہے ہیں بچہ غریب تھا اس کے پاس پیسے نہیں تھی لیکن اس کی بھی یہی خواہش تھی کہ وہ بھی مسجد میں چندہ ڈالے بچہ یہ منظر دیکھ کر کچھ وقت بعد اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

لیکن کچھ ہی لمحے بعد بچہ دوڑتے ہوئی مسجد کی طرف آ رہا تھا جب وہ چندے والوں کے نزدیک آگیا ہوں اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سی کبوتر تھی اس نے چندے والے کو مسجد کی تعمیر میں اپنی کبوتر دی۔

اس بچے نے چندے والے کو کہا کہ میرے ساتھ تو اور کچھ نہیں ہیں لیکن میں نے گھر میں کبوتر پالیں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے کبوتر مسجد کی تعمیر میں دے دوں یہ کبوتر اتنی زیادہ قیمتی نہیں تھا لیکن یہ نیت کی بات ہے نیت اس کی ٹھیک تھی تو مسجد والوں نے اس کبوتر پر بولی لگا دیں تو وہ کبوتر جو صرف سو یا ڈیڑھ سو روپے کی تھی وہی کبوتر ایک لاکھ 15 ہزار روپے میں فروخت ہوئی۔ اور اللہ تعالی نے چوٹے سے بچے کی نیت کا نظارہ براہ راست سب کو دیکھا دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *