بات اتنی بڑھی کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کے منہ پہ تھپڑ دے مارا

دوستوں آج ہم آپ کو دوستی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ آپ اپنی دوستی کو کیسے کاقائم رکھ سکتے ہیں۔ ایک بہت ہی زبردست اور سبق آموز تحریر ہے ضرور پڑھیے گا۔ ایک دفعہ دو بہت گہرے دوست صحرا میں سفر کر رھے تھے۔ راستے میں باتیں کرتے کرتے دونوں میں بحث ھوگئی اور بات اتنی بڑھی کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کے منہ پہ تھپڑ دے مارا۔

تھپڑ کھانے والا دوست بہت دکھی ھوا مگر کچھ بولے بغیر اس نے ریت پر لکھا۔ آج میرے سب سے اچھے اور گہرے دوست نے میرے منہ پہ تھپڑ مارا چلتے چلتے ان کو ایک جھیل نظر آئی دونوں نے نہانے کا ارادہ کیا۔ اچانک جس دوست کو تھپڑ پڑا تھا وہ جھیل کے بیچ دلدلی حصہ میں پھنس گیا مگر جس دوست نے تھپڑ مارا تھا۔ اس نے اسے بچا لیا تب بچنے والے دوست نے پتھر پہ لکھا آج میرے سب سے اچھے اور گہرے دوست نے میری زندگی بچا لی۔ یہ دیکھ کر جس دوست نے تھپڑ مارا تھا اور بعد میں جان بچائی اس نے پوچھا جب میں نے تم کو دکھ دیا تو تم نے ریت پر لکھا تھا۔ اور جب جان بچائی تو تم نے پتھر پہ لکھا کیوں؟ پہلے دوست نے جواب دیا جب کوئی آپ کو دکھی کرے یا تکلیف دے تو ھمیشہ اس کی وہ بات ریت پر لکھو۔ تاکہ درگذر کی ھوا اسے مٹا دے لیکن جب بھی کوئی آپ کے ساتھ بھلائی کرے تو ھمیشہ اس کی اچھائی پتھر پہ نقش کرو۔ تاکہ کوئی بھی اسے مٹا نہ سکے ہم امید کرتے ہیں کہ آج کی تحریر آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی۔ مزید اچھی تحریروں کے لئے ہمارے پیج کو ضرور فالو اور لائک کریں اور ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ دوستوں پر کبھی آزمائش نہ ڈالو کیوں کہ بعض اوقات آپ کی آزمائش پورا نہ کرنے پر آپ کی دوستی خراب ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *