ایک رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دستر خوان پہ بیٹھا تھا

کہ ایک فقیر نے صدا لگائی: اللہ کے نام پہ کچھ کھانے کے لیے دے دو، اُس نے بیوی کو حکم دیا سارا دسترخوان فقیر کی جھولی میں ڈال دو۔ لیکن جب عورت نے فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑیں مار کے رونے لگی؟ ایک رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دستر خوان پہ بیٹھا ہوا تھا۔ دستر خوان اللہ پا کی ہر نعمتوں سے بھرا ہوا تھا ، اتنے میں ایک فقیر نے صدالگائی۔ کہ اللہ کے نام پہ کچھ کھانے کے لیے دے دو۔

اُس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا ، کہ سارا دسترخوان فقیر کی جھولی میں ڈال دو، عورت اُٹھی اور ایسا ہی کیا۔ جیسا اُس کے شوہر نے بو لا تھا، عورت نے جب اس فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑ یں مار کے رونے لگی، تو اس کا شوہر بھا گتا ہوا آیا، اور پوچھا کیا ہوا۔ تو وہ بولی۔ یہ شخص ایک بہت امیر آدمی تھا اور میرا پہلا شوہر تھا،ایک دن ہم ایسے ہی دسترخوان پر بیٹھے کھا نا کھا رہے تھے، کہ ایک فقیر آیا۔ صدا لگائی ، بہت بھوکہ ہوں، کچھ کھانے کے لیے دے دو ، یہ شخص اُٹھا اور فقیر کی ایسی پٹائی کی کہ لہو لہان کر دیا، نہ جانے اُس فقیر نے کیا بد دُعا دی کہ اس کے حالات دن بدن خراب ہو تے چلے گئے۔ اور سب کچھ بک گیا، اُ س نے مجھے بھی طلاق دے دی، اور کچھ عرصہ بعد میری آپ سے شادی ہو گئی، شوہر نے بیوی کی باتیں سُنی ، تو بو لا: اگر میں تمہیں اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات بتاؤں۔ تو تم حیران ہو جاؤ گی، اُس شخص نے جس کی پٹائی کی تھی وہ میں ہی تھا، قدرت کا بھی عجیب نظام ہے، اللہ پاک نے مال، دولت، بنگلہ اور بیوی بھی چھین کر اُس شخص کو دے دیا۔ جو فقیر بن کے کبھی اُس کے دَر پہ آیا تھا، اور چند سال بعد اللہ پاک نے اُ س شخص کو فقیر بنا کہ اُسی دَر پہ لا کھڑا کیا، ہمیشہ اللہ پاک کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔ اللہ پاک آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ آتی تھی اندو کے پتا، اندو کی ماں، اندو کے بھائی، مدن کے بھائی بہن، باپ، ان کی ریلوے سیل سروس کی نوکری، ان کے مزاج، کپڑوں کی پسند، کھانے کی عادت، سبھی کا جائزہ لیا جانے لگا۔ بیچ بیچ میں مدن بات چیت کو توڑ کر کچھ اور ہی کرنا چاہتا تھا لیکن اندو طرح دے جاتی تھی۔ انتہائی مجبوری اور لاچاری میں مدن نے اپنی ماں کا ذکر چھیڑ دیا جو اسے سات سال کی عمر میں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتی بنی تھی۔  جتنی دیر زندہ رہی بیچاری مدن نے کہا بابو جی کے ہاتھ میں دوائی کی شیشیاں رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares
error: Content is protected !!