اے دوست تم میں یہ خاصیت کیسے آئی کیوں تمہارا ہاتھ جلتے ہوئے انگار اور آگ نہیں جلاتی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو لوگوں کے درمیان بہت گہری دوستی تھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ چلتے پھرتے اور سیر کرتے تھے ان میں سے ایک دوست کیے خاصیت تھی کہ ان کا ہاتھ آگ نہیں جلاتا تھا تو دوسرے دوست نے ان سے پوچھا کہ اے دوست تم میں یہ خاصیت کیسے آئی کیوں تمہارا ہاتھ جلتے ہوئے انگار اور آگ نہیں جلاتی پہلے دوست نے جواب دیا کہ یہ بہت لمبی زبان ہے پھر کبھی بتاؤں گا لیکن دوسرے دوست کے مسلسل اصرار پر انہوں نے اپنی کہانی یوں سنائی۔

 

پہلے دوست نے کہا کہ ہمارے محلے میں ایک لڑکی رہتی تھی جو بہت ہی خوبصورت اور حسین تھی مجھے ان سے پیار ہو گیا تھا لیکن وہ پہلے ہی کسی اور کے منگیتر دی میں نے ان سے بہت ملنے کی کوشش کی ایک بار بات بھی ہوئی میں نے ان سے کہا کہ تو میری خواہش پوری کر دے میں تمہارے پاؤں میں دولت کے انبار لگا دوں گا لیکن وہ لڑکی ٹس سے میس نا ہوئی ہر بار انکار کرتی تھی بالآخر اس کی شادی اپنے منگیتر سے ہوئی جو بہت ہی غریب گھرانے کا تھا۔ اس طرح وقت گزرتا گیا اور پلا خیر ان کے علاقے میں قحط سالی پڑھی۔ میرے بابا ‏مجھے کہا کہ غریب لوگ بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں جاکہ ان لوگوں میں کچھ راشن وغیرہ تقسیم کر لو۔

 

میں ڈھیر سارا دن قریب کرکے ان کے علاقے میں جا پہنچا اتفاق سے وہ لڑکے بھی ان راشن وصول کرنے والوں کی قطار میں کھڑی تھی اور میری نظر ان پے پڑھیں میں نے اس لڑکی کو علیحدہ بلایا اور ان سے کہا تم کیوں یہاں کڑی ہو انہوں نے کہا کہ میرے تین بچے ہیں اور کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا ہے جیسا کے غریب امیروں کے دروازے پر کھڑے کچھ مانگ رہے ہیں میں بھی یہاں اس لیے آیی ہو اس لڑکے نے کہا کہ میں آپ کو بہت سارا سامان دوں گا لیکن وہی میری پرانی خواہش آج ہی پوری کر دو اور لڑکے واپس بے بس ہو کر مڑیی اور وہاں سے چل پڑی لیکن پھر ان کو اپنے بچوں کا خیال آیا اور واپس آ کر کہا کے امیر آدمی مجھ پر رحم کھاؤ جواب میں لڑکے نے پرواہیاں ظاہر کر دی اس طرح دو تین دفعہ ہوا لیکن لڑکے نے اپنی خواہش ہر بار ظاہر کردی بلا آخر اس نے اپنے دل میں ہاں ہی کر بھی لیکن اچانک وہ اس کے ذہن میں یہ حدیث گھوم اٹھی جس کا مفہوم یہ تھا پھر اس اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے ڈر سے گناہ چھوڑ دے گا اللہ تعالی اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا اس کو وہم اور گمان بھی نہ ہو۔

 

تو فور لڑکے نے اساویر لڑکے سے کہا کہ اے امیر آدمی بس آخری بار سوال کر رہی ہو اگر کوئی دینا ہے تو دے دو نا ہی میں واپس آؤں گی اور نہ ہی سوال کروں گی۔ جس پر وہ امیر لڑکے نے مسکرا کر پھر سے وہی خواہش ظاہر کردی۔ اس بار ورلڈ کی کر چلے گی اور بچوں کو تسلی دیتی ہوئی نماز پڑھی اور اللہ سے دعا مانگنا شروع کر دیا اے اللہ تو ہی دانا ہے میرے بچوں کے رزق کا بندوبست اب تو ہی کرے گا اے سوال پورہ ہی ہوا تھا کہ اس کے دروازے پر دستک ہوئی اور جب دروازہ کھولا گیا تو وہی امیر لڑکا تھا لڑکے نے گرج کر کہا کے اب یہاں کیوں آئے ہو تم غریب ہو کر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کر رہی ہوں اللہ نے مجھے اتنا سب کچھ عطا کیا ہے تو میں کیسے گناہ کروں لہذا اب میرا ارادہ بدل چکا ہے اور اب تم جو مانگو میں دل نہیں دوں گا اور بعد میں آپ کو ایک بہن کی نظر سے دیکھوں گا اس کے بعد اس غریب لڑکے نے اس سے شکر کیا اور دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ لڑکا اپنے قول میں سچا ہے تو ان پر دنیا اور جہنم کی آگ حرام کر دے تو اس نوجوان نے کہا کہ اس واقعے کے بعد جب بھی میں جلدی ہوئے آگ میں ہاتھ ڈالتا ہوں تو یہ مجھے نہیں جلاتی اور امید کرتا ہوں کے آخر تک نہیں جلائی گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *