بدذات

راحیل میری دوسری بیوی کے پہلے شوہر سے تھا۔۔۔! جڑواں بیٹوں کی پیدائش کے وقت کچھ ایسی پیچیدگی پیدا ہوگئی کہ میری پہلی بیوی بچ نہ سکی۔۔۔! بچوں کی دیکھ بھال کہ لیئے امّاں فوری طور پر خیر النساء کو بیاہ لائیں۔۔۔! اور یوں راحیل بھی ہماری زندگی میں چلا آیا۔۔۔! پہلے دن امّاں نے اس کا تعارف کرواتے وقت کہا بیٹا! خیر النساء بہت اچھی عورت ہے۔

اور دُکھی بھی ہے تیرے گھر اور بچوں کو بہت پیار سے سنبھال لے گی۔۔۔! بس اپنے بچوں کی خاطر تجھے اس کے لڑکے کو بھی گھر میں برداشت کرنا ہو گا۔۔۔! اب وہ اُس بدذات کو بھلا کہاں چھوڑے۔۔۔؟ امّاں کی اس بات نے میرے دِل میں ایک گِرہ لگا دی۔۔۔! دِل کے ایک کونے میں کینہ پلنے لگا۔۔۔! راحیل بہت تمیز دار بچہ تھا۔۔۔! ایک چیز جو میں نے شدت سے نوٹ کی کہ میرے سرد رویئے کے باوجود وہ مُجھ سے بہت محبت کرتا۔۔۔! اور میرے رویے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔!صبح جب میں ناشتے کے لیئے کھانے کی میز پر آتا۔۔۔! راحیل انتہائی تمیز کے ساتھ اسلام علیکم ابّا جان کہتا اور بھاگ کر میرے آگے اخبار رکھتا۔۔۔! میرے دِل میں لگی گِرہ ڈھیلی ہوتی کہ ساتھ ہی آواز آتی ارے بد ذات چل اپنی ماں سے کہہ جلدی ناشتہ لاۓ میرے بچے کو دیر ہو رہی ہے۔۔۔! وعلیکم السلام کے ساتھ راحیل کے سر پر پیار دینے کے لیئے اٹھتا ہاتھ وہیں میری اپاہج سوچ کے ساتھ لڑتا اور شکست کھا کر ڈھیر ہوجاتا۔

خیرالنساء نے میرے گھر اور بچوں کو اچھی طرح سے سنبھال لیا تھا وہ بہت صابر عورت تھی۔۔۔! کبھی شکوہ زبان پر نہ لاتی ۔۔۔! مُجھے یاد ہے ایک دن راحیل اُس سے پوچھ رہا تھا امّی جان بدذات کیا ہوتا ہے۔۔۔؟ میرا پورا جسم کان بن گیا میری سماعتیں شدت سے خیرالنساء کے جواب کی منتظر تھیں۔۔۔!مسکرا کر کہنے لگیں جب کوئی بہت پیارا لگے اور نظر لگنے کے ڈر سے آپ بتانا نہ چاہیں تو اُسے بدذات کہتے ہیں۔۔۔! اُس دن میں نے دیکھا راحیل بہانے بہانے سے سارا دن امّاں کے اِرد گرد پھرتا رہا۔۔۔!کبھی جاءِ نماز بچھا کر دے رہا ہے اور کبھی زرا سے کھانسنے پر پانی کا گلاس اُن کے آگے رکھ رہا ہے۔۔۔! امّاں کی آواز آئی ارے بدذات کیوں میری جان کھا رہا ہے ڈرامے باز۔۔۔! جا دفعہ ہو جا کر کچھ پڑھ لے۔۔۔! کیا جاہل رہ کر میرے بیٹے کے مال پر عیش کرتا رہے گا۔۔۔! راحیل نے کھٹ سے امّاں کے گلے میں باہیں ڈالیں چٹاچٹ اُن کی گال پر پیار کیا اچھا پیاری دادی جان کہا اور بھاگ گیا۔۔۔! میں وہیں امّاں کے تخت کے پاس بیٹھا دیکھ رہا تھا امّاں کی آنکھوں میں ہلکی سی نُور کی چمک نظر آئی اور پھر معدوم ہوگئی۔۔۔! کیسے بدقسمت تھے ہم ماں بیٹا اور کیسے خوش بخت تھے وہ ماں بیٹا۔۔۔! خیرالنساء نے بچے کے دِل میں نفرت کی گرہ نہیں لگنے دی تھی۔۔۔! اور میری ماں مُجھ اونچے لمبے مرد ، پیشہ کے اعتبار سے وکیل کے دِل میں کس آسانی کے ساتھ گِرہ لگانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔۔۔! مُجھے جوتے جمع کرنے کا بہت شوق تھا اچھے جوتے میری کمزوری تھے۔۔۔! میری وارڈ روب میں ایک سے بڑھ کر ایک جوتا موجود تھا۔۔۔! راحیل بہت شوق سے میرے جوتے پالش کیا کرتا۔۔۔! کئی بار میں نے اسے بڑی دلجمعی سے جوتے چمکاتے دیکھا۔۔۔! اور سچ بات تو یہ ہے کہ میرا دِل خوش ہو جاتا جوتے دیکھ کر۔۔۔! مُجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے خوش ہو کر صرف اتنا کہا واہ راحیل کمال کر دیا تم نے اور اسے پانچ سو کا نوٹ انعام دیا۔۔۔! بھاگا بھاگا امّاں کے کمرے میں گیا دادی دادی دیکھیں ابّا نے مُجھے انعام دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares
error: Content is protected !!