بس چھوڑیں جج صاحب

ایک مرد اپنی بیوی سے کام کی وجہ سے بہت زیادہ تھا۔ دن کو دفتر کا کام سارا دن کیا کرتا تھا۔ اور رات کو گھر کا کام کیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ سالن خود پکاتا تھا۔ آخرکار اس نے اپنی بیوی سے چھٹکارا پانے کے لئے آخری راستہ اختیار کیا۔ اور کورٹ میں درخواست دائر کی۔

جج – تمہیں طلاق کیوں چاہئے؟ عرضدار جج صاحب، میری بیوی مجھ سے لہسن چھلواتي ہے، پیاز كٹواتي ہے، برتن دھلواتي ہے! جج  ہاں تو اس میں کیا ہے، لہسن چھیلنے سے پہلے تھوڑا سا گرم کر لیا کرو آسانی سے نکل جائے گا۔ پیاز کاٹنے سے پہلے تھوڑی دیر انہیں فریزر میں رکھ دیا کرو۔ اس سے کاٹتے ٹائم آنکھوں میں جلن نہیں ہوگی۔ برتن دھونے سے پہلے انہیں پانی سے بھرے ٹب میں دس منٹ بھیگو دیا کرو آسانی سے صاف ہو جائیں گے۔ کپڑے سرف میں بھگونے سے پہلے سادہ پانی میں بھیگا لیا کرو داغ آسانی سےنکلیں گے اور ہاتھوں کو بھی تکلیف نہیں ہوگی. عرضدار – سمجھ گیا حضور. جج – کیا سمجھ گئے. عرضدار – یہی کہ، آپ کی حالت مجھ سے بھی بری ہے۔ آپ کی بیوی لہسن، پیاز اور برتنوں کے علاوہ آپ سے کپڑے بھی دھلواتي ہے۔ سبق: بیوی تو بیوی ھی ھوتی ھے چاھے کسی کی بھی ھو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *