بیشک یہ لذت وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو!پڑھیئے ایک سبق آموز تحریر

کائنات نیوز! ایک گاہک ایک دوکان سے پھل لیا کرتا تھا۔ ایک روز وہ دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا،کہ اج کیلوں کا کیا بھائو لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: جناب اج کیلے 11 درہم اور سیب 9 درہم۔اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک کیلو کیلے چاہئیں، کیا بھاو ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔اور دوکاندار کو پیسے دے کر چلی گئی۔

گاہک نے کہا کے میں نے بڑے غصے کے انداز میں دوکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ میں کہتا: دکاندار نے آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔ عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا: اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دیدوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے‘ اس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔ دوستوں ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اس طرح کی یتیم بے سہارا اور غریب بچوں کی مدد کریں۔ کیونکہ اللہ تعالی سب سے زیادہ انہی چیزوں پر خوش ہوتا ہے کہ جو ان کے بندوں کے ساتھ مدد کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *