تمہاری لاعلمی میرے علم سے ہزار درجہ بہتر ہے

ایک دفعہ رمضان کے مہینے میں حجاج بن یوسف کسی عزر سے سفر پر نکلے۔ حجاج بن یوسف کا روزہ نہیں تھا، دوپہر کے وقت اس کے لئے کھانا آیا، حجاج بن یوسف نے اپنے ملازم سے کہا، کہ اگر کوئی مسافر موجود ہے تو اسے بلاؤ۔ ملازم فوراً باہر کی طرف گیا، اور ایک بدو کو پکڑ کر لے آیا۔

حجاج نے اسے کھانے کی دعوت دی، تو وہ کہنے لگا کہ میں آج اللہ کی دعوت سے لطف اندوز ہورہا۔ ہوں یعنی اس نے مجھے روزہ رکھنے کی دعوت دی، اور میں نے قبول کرلی۔ حجاج اسے کہنے لگا کہ آج کا تو سخت گرم ہے، اتنی گرمی میں تم سے برداشت نہیں ہوگی، لہٰذا بہتر ہے کہ افطار کر لو۔ بدوکہنے لگا”اتنا گرم نہیں جتنا یوم محشرہوگا“۔ حجاج نے اس پر اسے کہا کہ کوئی بات نہیں بہت گنجائش ہے۔ تم آج افطار کرکے عید کے بعد گنتی پوری کرسکتے ہو اس میں کیا حرج ہے۔ بدو نے جواب دیا ”کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں کہ میں عید کے بعد تک زندہ رہوں گا“۔ حجاج نے بدو کا جب یہ جواب سنا تو بولا‘اللہ تمہیں سلامت رکھے تمہاری لاعلمی میرے علم سے ہزار درجے بہتر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *