دنیا کی حیرت انگیز شادی اللہ ایسی شادی سے بچائے

لاہور میں ایک امیر شخص کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی۔اس نے اپنی بیٹی کی تمام خواہشات پورا کرنے کے لئے ایک سال پہلے سے شادی کی تیاریاں شروع کیں۔یہاں تک کہ اس نے سال پہلے شادی کی کارڈ بنوائیں اور بہت پیسا خرچ کیا۔انتظامات اس حد تک تھی کہ باراتیوں کے ساتھ مہمانوں حرم ہم ان کے گلے میں ایک ہزار کا بار ڈالا اور وہ برتن جن میں باراتیوں نے کھانا کھایا۔

وہ پتھر کی بنی ہوئی خصوصی قسم کے انمول سے برتن تھے اور وہ برتن انہوں نے خود بنوائی تھی اور ان برتنوں پر کچھ یادگار لکھوائی تھی۔اورکھانا کھانے کے استعمال کے بعد ہر مہمان کو وہ برتن اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دی۔ کہ وہ اپنے استعمال میں آنے والے برتن یادگار کے طور پر لے جا سکتا ہے۔ ادھر لڑکے والوں نے بھی کیا خوب انتظام کیا کہ چڑیا گھر سے کرائے پر ہاتھی لے آئے دولہا میاں اس ہاتھی پر بیٹھ کر سسرال پہنچا۔ جیسے بڑا معرکہ سرانجام دینے چلا ہو۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا۔جب رخصتی ہو گئی اور مرد گھر واپس آئے تو عورتوں نے لڑکی کے والد سے پوچھا کہ حق مہر کتنا مقرر کیا ہے؟ اس وقت ان کو خیال آیا کہ ہم نے تو نکاح پڑھا ہی نہیں ہے، تب انہوں نے باراتیوں کی طرف پیغام بھجوایا کہ بارات کو یہیں راستے میں روک لیا جائے تاکہ بچی کا نکاح کرنے کے بعد اسے نئے گھر میں داخل کیا جائے اندازہ کیجئے کہ اتنے پیسے خرچ کیے اور اتنے عرصے سے پلاننگ کی۔ ہر چیز کا تو خیال رکھا لیکن اللہ کے حکم کا خیال نہ یہ دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ دینداری کی بنیاد پر اپنے نئے گھر کی بنیاد رکھتی ہیں وہ دنیا ہی میں جنت کے مزے لیتے ہیں۔اور آخرت میں بھی وہ جنت کے مزے لیتا ہے۔دین اسلام نے ہماری زندگی بہت آسان کی ہے لیکن اگر اس پر ہم عمل کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *