ساس سے چٹکارا

کچھ لڑکیا جب شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر بس جاتی ہیں، بس اس کی یہی خواہش ہوتی ہے، کہ وہ اس گھر کی حکمران بن جائے۔ اور سب کچھ اس کی مرضی کے مطابق ہو جی جو یہ چاہتی ہیں، لیکن ساس کی ایک چھوٹی سے بات اس کو اتنی زہر لگتی ہے۔ وہ ایک منٹ بھی اپنے ساس کے ساتھ گھر میں رہنے کیلئے رضامند نہیں ہوتی۔

لیکن حقیقت یہ نہیں حقیقت کچھ اور ہے، ہم آج آپ کو ایک ایسی لڑکی کی کہانی سناتی ہیں جو اپنے ساس سے بہت تنگ تھی۔ ایک لڑکی جس کا نام تبسم تھا وہ سسرال میں اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ رہتی تھی۔ بہت کم وقت میں ہی تبسم کو یہ اندازہ ہوچکا تھا، کہ وہ اپنی ساس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ ان دونوں کی شخصیت بالکل مختلف تھی۔ اس کی ساس ہر وقت تبسم پر طنز کرتی رہتی تھیں، جو اسے بلکل نہ پسند تھا۔ پھر آہستہ آہستہ دن اور پھر ہفتے گزار گئے لیکن تبسم اور اس کی ساس کی زبانی تکرار ختم نہ ہوئی۔ ان تمام نااتفاقیوں نے گھر کا ماحول بہت خراب کردیا تھا، جسکی وجہ سے آخرکار تبسم نے یہ فیصلہ کیا، کہ وہ اپنی ساس کا برا رویہ اور برداشت نہیں کریگی۔ تبسم اپنے پاپا کے ایک بہت اچھے دوست احمد انکل کے پاس گئی، جو جڑی بوٹیاں بیچتے تھے۔ تبسم نے انھیں ساری کہانی بتائی اور ان سے کہا کہ وہ اس کو تھوڑا سا زہر دے دیں، تاکہ ہمیشہ کے لئے یہ مسئلہ ختم ہوجائے۔ احمد انکل نے تھوڑی دیر کیلئے کچھ سوچا اور پھر کہا کہ تبسم میں اس مسئلے کو حل کرنے میں تمہاری مدد کرونگا، لیکن جیسا میں تمہیں کہوں ویسا ہی تمہے کرنا ہوگا، تبسم راضی ہوگئی۔ احمد انکل ایک کمرے میں گئے اور اپنے ہاتھ میں کچھ جڑی بوٹیاں لے کر لوٹے۔ انھوں نے تبسم کو کہا کہ تم اپنی ساس کو مارنے کیلئے فوری زہر استعمال نہیں کرسکتیں کیونکہ اسطرح سب تم پر شک کریں گے، اسلئے میں تمہیں یہ جڑی بوٹیاں دے رہا ہوں۔

اب ہر روز تم کچھ اچھا پکانا اور پھر انھیں کھانا دیتے وقت اس میں یہ جڑی بوٹیاں ڈال دینا۔ اور ہاں اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی تم پر شک نہ کرے کہ تم نے انھیں مارا ہے تو تمہیں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ تمہارا رویہ انکے ساتھ بہت دوستانہ ہو۔ ان سے لڑائی مت کرنا، ہر بات ماننا، تبسم یہ سب سن کر بہت خوش ہوئی، اس نے احمد انکل کا شکریہ ادا کیا اور جلدی سے گھر چلی گئی کیونکہ اب اسے اپنی ساس کو مارنے کا کام شروع کرنا تھا۔ ہفتے گزر گئے اور پھر مہینے، تبسم روز کچھ اچھا پکا کر اپنی ساس کو خاص طور پر پیش کرتی تھی۔ اسے یاد تھا کہ احمد انکل نے اس سے کیا کہا تھا کہ اسے اپنے غصے پر قابو رکھنا ہے،ان کے ساتھ اپنی ماں جیسا برتاؤ کرنا ہے۔ چھ مہینے گزر گئے، گھر کا نقشہ تقریبا بدل چکا تھا۔تبسم نے کوشش کرکے اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھ لیا تھا، اب اکثر وہ اپنی ساس کی باتوں پر ناراض اور غصہ نہ ہوتی۔ چھ ماہ میں ایک بار بھی اسکا اپنی ساس سے جھگڑا نہیں ہوا تھا اور اب اسے وہ بہت اچھی لگنے لگی تھیں۔

ساس کا رویہ بھی اسکے ساتھ بہت بدل گیا تھا اور وہ بھی تبسم کو اپنی بیٹیوں کی طرح پیار کرنے لگیں تھیں۔ وہ اپنے سب دوستوں کے درمیان تبسم کی تعریفیں کرتی تھیں۔ تبسم اور اسکی ساس دونوں اب ایک دوسرے کو ماں بیٹی کی طرح سمجھنے لگے تھی۔ تبسم کا شوہر بھی یہ سب دیکھ کر بہت خوش تھا۔ ایک دن تبسم پھر احمد انکل کے پاس آئی۔ تبسم نے کہا کہ آپ مجھے طریقہ بتائیں کہ کیسے میں اپنی ساس کو اس زہر سے بچاؤں جو میں نے انہیں دیا ہے؟ وہ بہت بدل گئیں ہیں۔ میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ اس زہر کی وجہ سے مر جائیں جو میں نے انھیں دیا ہے۔احمد انکل مسکرائے اور کہنے لگے کہ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے تمہیں زہر نہیں دیا تھا بلکہ جو جڑی بوٹیاں میں نے تمہیں دی تھیں وہ وٹامن کی تھیں تاکہ ان کی صحت بہتر ہوجائے۔ زہر صرف تمہارے دماغ میں اور تمہارے روئیے میں تھا لیکن وہ سب تم نے اپنے پیار سے ختم کردیا۔یاد رکھیے ، ہمارا رویہ ، ہمارے الفاظ اور ہمارا لہجہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کیا رویہ اپناتے ہیں۔ یاد رہے کہ ساس بھی ماں کی طرح ہوتی ہے۔ جیسی کی ماں اپنے گھر میں اپنی بیٹی کو ڈانٹتی ہیں۔ اور اس کو اپنی ماں کی ڈانٹ بری نہیں لگتی۔ اگر وہ اسی طرح ساس کی ڈانٹ کو بھی ماں کی ڈانٹ سمجھ جاۓ۔

پھر اس کو اپنی ساس کی گھر نہیں بلکہ جنت نظر آئے گا۔ اور اگر اسی طرح ساس بھی جس طرح آپ نے بیٹی کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر نہیں ڈانٹتی۔ اور اسی نظر سے وہ اپنی بہو کو دیکھے تو یقینا بہو بھی اس کو اپنی ماں سے کم درجہ نہیں دی گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *