سرکاری سکولوں میں نیا تعلیمی سال کس مہینے سے شروع ہوگا؟سالانہ امتحانات سے متعلق بھی بڑا اعلان کردیا گیا

سرکاری سکولوں میں نیا تعلیمی سال 15 مئی سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ،کورونا پیٹرن کے تحت اس سال امتحانی پرچے آسان،مارکنگ نارمل طریقہ سے کی جائے گی. پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے فیصلوں کے مطابق پنجاب بھر کے تمام سرکاری سکولوں میں نیا تعلیمی سال 15 مئی سے شروع ہوگا جبکہ کچی کلاس سے ہفتم کلاس تک کے سالانہ امتحانات اپریل کے آخری ہفتہ سے لیکر مئی کےپہلے عشرہ تک ہونگے،

سالانہ امتحانات کا نیا خصوصی کورونا پیٹرن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ جس کے تحت 50 فیصد نمبر ہوم ورک کے رکھے گئے ہیں یہہوم ورک طلباء کو آن لائن یا پھر سکول بلاکر دیا جائے گا جبکہ50فیصد نمبر امتحانی پرچوں کے ہونگے،سالانہ پرچے نارمل انداز میں لئے جائیں گے جبکہ امسال کورونا کے باعث پرچے زیادہ سخت نہیں ہونگے،مارکنگ بھی نارمل ہوگی،موسم گرما کی تعطیلات اس سال 10 یا 15 جون سے شروع ہونگی اور 15 اگست سے تمام سکول دوبارہ کھل جائیں گے،دوسری جانب محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کی سنگین غفلت سے فیکلٹی پوری نہ ہونے پر سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی 283 سیٹیں کم کر دی گئیں، سینکڑوں طلبا کا ڈاکٹر بننے کاخواب چکنا چور ہوگیا’ پنجاب کے سرکاری کالجز میں ایم بی بی ایس کی 3405 سیٹیں کم ہو کر 3138، بی ڈی ایس کی سیٹیں 216 سے کم ہو کر 200 رہ گئیں، پنجاب میں سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہاں سینکڑوں طلبا کا مستقبل تاریک ہوگیا،

ایم بی بی ایس کی 267 اور بی ڈی ایس کی 16 سیٹیں کم کی گئی ہیں، کم ہونے والی سیٹوں میں سب سے زیادہ شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل کالج کی 62 سیٹیں شامل ہیں، شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل کالج وفاق کے زیر انتظام ہونے پر سیٹیں دوسرے صوبوں کو دیدی گئی۔ نشتر اور پنجاب میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس کی 75، 75 سیٹیں، قائد اعظم میڈیکل کالج کی 25 سیٹیں کم کی گئی ہیں، نشتر ، پنجاب اور قائداعظم میڈیکل کالجز میں سیٹیں فیکلٹی کی شدید کمی کے باعث کم کی گئی ہیں، راولپنڈی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی 20 سیٹیں بڑھا دی گئیں، نشتر انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹسٹری میں بی ڈی ایس کی 16 سیٹیں کم کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کی جانب سے بروقت فیکلٹی کی کمی دور نہ کرنے سے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی سیٹیں کم ہوئیں، پاکستان میڈیکل کمیشن کی بار بار وارننگ کے باوجود سرکاری میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں فیکلٹی کی شدید کمی کو دور نہیں کیا جاسکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares