شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے

تاریخ لکھتے ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنے معمول کے مطابق رات کو گشت کر رہے تھے رات اندھیرے میں ان کو کسی گھر سے عورت کی آواز آئی جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے الفاظ کو سنا تو وہ اشعار پڑھ رہی تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ اس کا شوہر گھر سے دور چلا گیا ہے اور اور وہ اپنے شوہر کی جدائی کی وجہ سے غم زدہ ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر آئے اور اپنی زوجہ سے دریافت کیا کہ شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے تو زوجہ نے جواب دیا کہ تین سے چار ماہ۔ آپ نے حکم جاری کر دیا کہ ہر فوجی کو چار ماہ بعد ضرور چھٹی دی جائے تاکہ ہر فوجی اپنی بیوی کا حق ادا کر سکے۔

 

موجودہ دور میں اور مائی کرام کی متفقہ رائے یہ ہے کہ شوہر کو چاہیے کہ وہ کم از کم چار ماہ کے بعد بیوی کے پاس آئے اور ان کا حق ادا کریں  اگر چار ماہ نہ ہو تو کم از کم ایک سال میں ضرور بیوی کے پاس آئے یا اس کو اپنے ساتھ ہی رکھیں ایک سال کی چدائی شوہر بھی اختیار کر سکتا ہے اگر اس میں بیوی کی رضا شامل ہو اور فتنہ کا کوئی ڈر نہ ہو اگر ایک سال کی چودائی میں بیوی کی رضا شامل ہو اور ساتھ میں تمہیں فتنہ کارڈ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر بیوی کی رضا شامل نہ ہو اور شوہر اسے زیادہ دیر تک جدائی اختیار کرے تو بیوی شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *