غربت

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) میری کلاس میں ایک لڑکی فرضی نام شازیہ تھی۔ ایک دن جب میں لیکچر ختم کرنے کے بعد اپنے آفس گئی، تو میرے پیچھے پیچھے شازیہ آگئی۔ آفس کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے ان کو اندر آنے کا کہا، ہو جیسے اندر آیا بولی میم اگر آپ کے پاس دو منٹ ہے،میں نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں۔میرے ذہن میں یہی آیا کہ فری پیریڈ ہے، تعلیمی لحاظ سے کوئی مدد ہی مانگنے آئی ہے۔

اکثر لڑکیاں فری پریڈ میں ایسی ہی کرتی ہیں۔ تو اس نے کہا میم آپ آپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں اس کی بات سے حیران رہ گئی کہ یہ کیسا سوال ھے۔ میں نے پوچھا کہ کیوں آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟ تو اس نے بتایا کہ میم میں غریب گھرانے سے ھوں میرے ساتھ پڑھنے والی لڑکیاں بہت زیادہ امیر ہیں اور وہ روز میری پرانے کپڑوں کا مذاق اڑاتی ہیں۔ میں آپنے گھر سے تعلیم کا خرچا بہت مشکل سے لے رہی ھوں نئے کپڑے کہاںنئے کپڑے کہاں سے لو آپ کی جلدی شادی ھونے والی ھے آپ نے پرانے کپڑے کسی کو تو دینے ہیں مجھے دے دیں۔ اس کی بات سن کر پہلی بار میں نے اس کے کپڑے دیکھے جو واقعے ہی پرانے ھو گے تھے۔ لیکن سلیقے سے استری کر کے پہنے ھوئے تھے ۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم کسی کی ذات پر بات کرتے ہوئے ایک منٹ بھی یہ نہیں سوچتےکہ ہمیں کیا حق پہنچتا ھے کسی کو کمتر کہنے کا یا کسی کے ذاتی معاملے میں ٹانگ آڑانے کا اگر کوئی امیر ہے۔ او ر اللہ کا دیا اس کے پاس سب کچھ ھے تو کیا ہمیں یہ حق مل گیا ھے کہ ہم جس کی چاہیں بے عزتی کر دیں کوئی خوف خدا نہیں ہے ۔ اس بات پر سوچیں ایک دن ہم نے بھی اللہ کو منہ دیکھانا ھے جب یہ دکھی دل اللہ کو آپنی پریشانیاں بتائیں گے اور رو رو کر کہیں گے۔ کہ اے اللہ تو نے انھیں دولت دی تھی اور ہمیں نہیں ہمارا کیا قصور تھا تو آپ کو اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا !! سوچیں اور لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل دینے سے گریز کریں کیا پتہ وہ کس حالت میں زندگی گزار رہے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *