مشہور زمانہ انٹرنیشل میگزین کی رپورٹ نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا

کراچی (ویب ڈیسک) فرانس سے لی گئے بھارت نے رافیل طیارے جو ان میں سے 5؍ طیارے 29؍ جولائی کو بھارت پہنچے۔ فرانس کے ساتھ 2016 میں ہونے والے معاہدے کے تحت مزید 31؍ رافیل بھارت کو فروخت کرے گا۔ بھارتی فضائیہ کو اس وقت طیاروں کی اشد ضرورت ہے اور اس کے فلیٹ میں 126؍ لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے۔ فارن پالیسی میگزین نے اس پر ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ بنائی ہے۔

فارن پالیسی میگزین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 20؍ سال میں پہلی مرتبہ ہے کہ نئے طیارے بھارت پہنچے ہیں وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ اس سے بھارت کا مورال بلند ہوگا لیکن اس حقیقت کو بدلنے کیلئے خاص فرق نہیں پڑے گا کہ بھارت فضائی قوت کے معاملے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو معیار اور تعداد کے لحاظ سے بھارتی فضائیہ کو خطے میں بہترین سمجھا جاتا تھا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اسے پاکستان اور چین کے درمیان ممکنہ طور پر کسی اتحاد کی صورت میں زیادہ طیارے خریدنا پڑ رہے ہیں۔ بھارت کو اس حوالے سے بھی پریشانی لاحق ہوگئی ہے کہ لداخ میں چین سے شکست کھانے کے بعد اب پاکستان نے بھی اسکردو بیس گلگت بلتستان میں فضائی مشقیں کی ہیں۔ یہی وہ چیلنجز ہیں جن کا سامنا اس وقت بھارت کو ہے۔ رافیل طیارے کسی حد تک مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے 36؍ طیاروں کا آرڈر دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت نے اب طیاروں کی قیمت کی بجائے اپنے دفاع کو اہمیت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ تعداد اسے اپنے اس فضائی دفاع میں مضبوط بنانے کیلئے کافی نہیں جو انتہائی حد تک کمزور پڑ چکا ہے۔ حکومت کے منظور شدہ لڑاکا اسکوارڈنز کی تعداد 42؍ ہے لیکن اس وقت بھارت کے پاس صرف 31؍ اسکوارڈنز ہیں۔ 2024ء تک اس کے طیاروں کے فلیٹ سے آخری مگ 21؍ طیاروں کا فلیٹ بھی گرائونڈ ہو چکا ہوگا جس سے یہ تعداد بالاخر 30؍ ہو جائے گی۔ اسلئے چاہے یہ رافیل طیارے کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں لیکن صرف 36؍ طیاروں کی بھارتی فضائیہ میں شمولیت خطے میں ڈرامائی انداز سے طاقت کے توازن کو درست بھارت کے حق میں کرنے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ بھارت کے ساتھ ج نگی طیاروں کی کمی کے ساتھ ساتھ پائلٹ کی تربیت میں بھی کمی ہے۔ جو ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *