مکھی ہمارے ہاتھ میں‌آنے سے پہلے کیسے بھاگ جاتی ہے جانے ایک دلچسپ حقیقت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مکھی کے بارے میں‌تو شاید کوئی بھی ایسا نہ ہو جو نا جانتا ہو کہ مکھی کیا ہے۔ چھوٹا ہو بڑا مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب سب ہی اس کے ہاتھوں‌پریشان دکھائی دیتے ہیں کبھی کبھی غصے میں‌آکر اس کو مارنے کے لئے ہاتھ اٹھتا ہے لیکن وہ اس سے پہلے ہی بھاگ جاتی ہے۔

ایسا کیوں‌ہوتا ہے دراصل اس کی وجہ مکھی کی آںکھیں‌ہیں‌جو کہ تعداد میں‌ہزاروں ہوتی ہے۔ اور بعض ماہرین کے مطابق ایک جوان مکھی کی 6 ہزار آنکھیں‌ہوتی ہیں۔ اب انسان کی صرف دو آںکھیں‌ہوتی ہیں‌جن کی بدولت کافی حد تک دیکھ پاتا ہیں۔ تو خود سوچیں کہ جس مکھی کی اتنی زیادہ آنکھیں‌ہوگی اس کی بینائی کی طاقت کتنی زیادہ ہوگی۔ اس وجہ سے ج ہم اسے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں‌۔ تو اسے پتا چل جاتا ہے اور وہ ہاتھ کے مخالف سمت میں‌اڑ جاتی ہے۔ اس مکھی کا ذکر قرآن میں‌بھی ہے . اور اللہ اس کے بارے میں‌کفار کا نظریہ پیش کر کے فرماتے ہیں‌کہ اس کو اللہ نے مثال کے طور پر کیوں‌پیش کیا . اب انہیں اگر علم ہو جائے کہ یہ کتنی عجیب و غریب خصوصیات اپنے اندر رکھتی ہیں‌تو وہ کبھی بھی ایسا سوال نہ کرتے . اللہ فرماتے ہیں‌: إِنَّ اللَّـهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ ﴿٢٦﴾ترجمہ :الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو. اس لئے اگرف کبھی مکھی مارتے ہوئے نشانہ چوک جائے تو پریشان نہ ہو . کیونکہ اس کی آنکھیں‌آپ سے زیادہ ہے اس لئے اس کا بچ نکلنا زیادہ ممکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *