میٹھا نہ کھانے کے فوائد

نیوز! چینی اور شکر کو زندگی سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ہر کسی کو کبھی نہ کھبی میٹھا کھانے کی خواہش ہوتی ہے جبکہ میٹھے کی انسانی جسم کو ضرورت بھی ہوتی ہے تاہم پھل وغیرہ۔اس مقصد کے لیے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ تاہم اگر آپ کسی طرح چینی یعنی میٹھے کو زندگی سے نکال دیں تو اس کے بہت زیادہ اہم فائدے ہیں۔

اور یہ فوائد میٹھے سے پرہیز اختیار کرتے ہی حاصل ہونا شروع ہوجاتے ہیں تاہم بدن پر میٹھے سے پرہیز کے کیا اثرات ظاہر ہوتے ہیں ۔ وہ مندرجہ ذیل یہ ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق چینی کے استعمال سے شوگر مالیکیول اکھٹے ہوتے ہیں اور کولیگن اور الیسن کی سطح بہت جلد پر کام کرتے ہیں۔ یہ دونوں ایسے روپٹین ہیں جو جلد کو جوان رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کا تحفظ جس عمر تک جتنا ممکن ہو، اہم ہوتا ہے۔ اسی طرح شکر کی زیادہ یا کم مقدار دوران خون میں گلوکوز اور انسولین کی کمی بیشی پر اثرات نمایا کرتی ہے،شکر سے دوری کے نتیجے میں اس ورم کا خطرہ کم ہوتا ہے جو بڑھاپے کی جانب لے جاتی ہے۔ مزاج پر خوشگوار اثرات چینی کا استعمال ڈپریشن کا خطرہ بڑھاتا ہے، اس کی وجہ یہ شکر سے جسم کے اندر ورم کا امکان بڑھتا ہے جو دماغی افعال پر غلط اثرات مرتب کرتا ہے۔ جب کوئی بندہ شکر سے دوری اختیار کرتا ہے تو ذہنی دھند کا احساس کم ہوتا ہے جبکہ ایک سے 2 ہفتے میں مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر میٹھے کا استعمال برابر میں رکھا جائے تو مزاج کو چڑچڑے پن سے بچانا ممکن ہوتا ہے۔ جسمانی وزن میں کمی ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ چینی کا استعمال کسی لت کی طرح ہوتا ہے اور تبدریج اس میں کمی لانا ممکن ہوتا ہے،

لمبی زندگی میٹھی غذائیں کھانے کے بعد گلوکوز کی سطح زیادہ ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے انسولین کی سطح بھی بڑھتی ہے،۔ ایسا ہونے پر اعصابی نظام کا وہ حصہ خراب ہوتا ہے جو بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بڑھاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر دل کے مرض کی بنیادی وجہ ہے جبکہ ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ اسی طرح شکر جسم میں نقصان دہ چربی کے خلیات کو بھی بڑھاتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔ میٹھا کھانے کی عادت سے جسم کے دوسرے حصے متاثر ہو یا نہ ہو، مگر دانتوں پر ضرور اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چینی کیوٹیز کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ منہ میں ایسے بیکٹریا کی تعداد بڑھتی ہے ۔جو دانتوں کی خرابی کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح چینی زیادہ کھانا ایسے بیکٹریا کی تعداد بھی بڑھاتا ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں اور چینی چھوڑ کر دانتوں کی صحت کے ساتھ ساتھ سانس کی بو کے مسئلے سے بھی فوری طور پر بچا جاسکتا ہے اور یہ وقت کے ساتھ مزید بہتر ہوتا ہے۔ اچھی نیند اگر میٹھا زیادہ کھانے کے عادی ہوں خصوصاً سونے سے کچھ دیر پہلے، تو اسے رات کی اچھی نیند کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ سونے سے پہلے کچھ میٹھا کھانے پر کچھ دیر بعد بلڈشوگر لیول نیچے گرتا ہے

جبکہ پسینے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ میٹھی غذائیں تکلیف کا باعث بننے والے ہارمونز کو زیادہ متحرک کردیتے ہیں، جس سے نیند میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر میٹھا چھوڑ دیں تو 2 سے 3 دن میں سونے کا معیار بہتر ہوجاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *