نماز واقعی بے حیائی سے روکتی ہے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نماز دین اسلام کا ستون ہے۔ ایک دفعہ میں اپنے استاد صاحب کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور میں نے سوال کیا:حضرت قرآن کہتا ہے:”بے شک نماز بْرے اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔(سورہ عنکبوت آیت 45)لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں۔

اور سود بھی کھاتے ہیں،جھوٹ بھی بولتے ہیں،بے حیائی کے کام بھی کرتے ہیں۔ہم خود بھی نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے مکمل طور پر کنارہ کش نہیں ہو پاتے۔تو اِس آیت کا کیا مطلب ہوا؟فرمانے لگے: قاضی بیٹا۔قران کی آیت پر نہیں اپنی نمازوں پر شک کرو۔کہان نمازوں میں ایسی کون سی کمی ہے جو تمہیں گناہوں سے نہیں روک پا رہی۔صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نےکبھی یہ سوال نہیں کیا،کیونکہ انکی نمازیں واقعی نمازیں تھیں۔اب بھلا سوچو اگر ایک شخص کو دن میں پانچ بار عدالت میں جج کا سامنا کرنا ہو تو کیا وہ جرم کرنے کا سوچے گا بھی؟جرم تو وہ کرتا ہے جو سمجھتا ہے کہ عدالت سے بچ جائیگا۔یہ جواب سن کر مجھے وہ حدیث یاد آگئی کہ بہت سے نمازیوں کی نمازیں انکے منہ پر مار دی جائینگی۔یا اللہ ہمیں اصلی اور سچی نمازیں پڑھنے اور اس پر پابند ہونے اور رہنے کی توفیق عطا فرما دے۔ اسی لئے سب دوست احباب سے گذارش ہے کہ نماز کی پابندی کریں اور نماز کی ادائیگی خشوع و خضوع سے کریں ۔ سچے دل سے نماز ادا کریں جیسے آپ اللہ پاک سے ہم کلام ہوں اور نماز کی ادائیگی کے دوران دنیا سے تعلق ختم کردیں۔ شکریہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares