نیک بیوی

سونے سے پہلے اس نے اپنے شوہر کو مخاطب کرتی ہوئی کہاں جی کیا میں آپ کو فجر کے وقت نماز کیلئے اٹھاوں اپ کو ؟ اس نے نیند میں ڈوبے آنکھیں کھول دیں اور کڑواہٹ لہجے میں کہا کیوں کو میں نے کتنی دفعہ کہا ہے کہ میں پورا دن کام کرکے تھک جاتا ہوں اس وجہ سے میں فجر نماز کی نہیں اٹھ سکتا۔ پر نماز تو فرض ہے نہ آپ تو فجر کیا ایک بھی نماز نہیں پڑھتے بس عید اور جمعہ کے اس کی یہ بات سن کر وہ جھنجلا کر بستر پر بیٹھ گیا۔

اور کہا کہ دیکھو آپ نے نماز پڑھتی ہے میں نے آپ کو کبھی روکا ہے مگر یہ بار بار مجھے لیکچر مت دیا کرو۔ ہر کوئی اپنا حساب کتاب دینا ہے۔ اب سونے دو مجھے اور لائٹ بند کر دو۔وہ پھر بستر پر لیٹ گیا۔اچھا سنیں۔ اس کے پھر پکارنے پر اس کا ضبط جواب دے گیا۔ ایک بار کہہ دیا تو کیوں وہ بحث کر رہی ہو بار بار۔ وہ کچھ دیر کے توقف کے بعد بولی۔ نماز کا نہیں کہہ رہی، دوسری بات ہے۔ کیا؟ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اب کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔ مجھے کل پیسوں کی ضرورت ہے۔ جو آپ نے دئیے سب ختم ہو گئے۔ سب ختم ہوگئے؟ اس کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی۔ خدا کی بندی ایسے کہاں خرچ کئیے پیسے؟ ابھی آدھا مہینہ باقی ہے تنخواہ ملنے کو۔ اور تم نے مہینے بھر کا بجٹ ابھی سے ختم کر دیا؟ میں آپ کو حساب نہیں دینا چاہتی، بس ہو گئے خرچ. کل بندوبست کر دیجئے گا پیسوں کا۔ اس کی بات پر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ کیوں حساب نہیں دینا چاہتیں۔پیسہ کیا درختوں پر لگا ہے۔ جو توڑ لے بندہ۔ ایسا تو آج تک تم نے نہیں کیا پھر اس بار۔ کچھ بھی ہو مجھے ساراحساب چاہئے۔ ابھی اس کا چہرہ بتا رہا تھا وہ سخت غصے میں ہے۔ اس کی بات پر وہ مسکرا دی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ تم ہنس رہی ہو۔ مذاق ہے کیا یہ؟وہ بولی۔ میں اس لئیے ہنس رہی ہوں کہ اللہ نے آپ کو اس گھر کا سربراہ بنایا اور جب آپ کی سربراہی میں، میں حساب نہ رکھ پائی تو آپ کو غصہ آ گیا۔

اب سوچیں جب اللہ تعالی کل کو آپ سے بھی وہ رب محشر میں حساب مانگے گا تو کیسے دیں گے۔ آپ کا میرا حساب تو چند ہزار روپوں کا ہے۔ پر بندے اور رب کا تو پوری زندگی کی ایک ایک نعمت کا ہے۔ جس کی کوئی قیمت نہیں۔ کوئی بدل نہیں۔ وہ جیسے سن ہوا اسے سن رہا تھا۔ وہ پھر بولی۔ میں نے تو آپ کو مزے سے کہہ دیا میرے پاس حساب نہیں. پر کیا آپ اس بڑے دن اس رب کے سامنے یہ کہہ سکیں گے؟ جس دن بڑے بڑے بادشاہ اس کے سامنے کانپ رہے ہوں گے؟ وہ چپ ہو چکا تھا نظریں جھکائے تصورمیں جیسے اس بڑے دن کے تصور سے کانپ رہا تھا۔ آپ فکر نہ کریں، ہر مہینے کی طرح اس بار بھی پورا ہو جائے گا کہیں خرچ نہیں ہوئے پیسے یہ تو بس اس لئے کہا کہ۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ سو جائیں میں لائٹ بند کر دیتی ہوں۔وہ اٹھی تو وہ ایک دم بول پڑا۔بات سنو۔ جی؟۔۔۔ تم اٹھو تو فجر کے لئے مجھے جگا دینا۔۔یہ کہہ کر اس نے کروٹ بدلی اور آنکھیں بندکر لیں۔ اس کی بیوی نے اسے مسکرا کر دیکھا اور بتی گل کر دی۔ فجرمیں ایک نئی روشنی پھوٹنے والی تھی۔ یاد رہے کہ نماز ہم سب پر فرض ہے اور ہم سب کو اس کے وقت پر باجماعت ادا کرنی چاہیے۔ نماز ادا کرنے سے دنیا اور آخرت میں انسان کو کامیابی آتا کرتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *