پاکستانی شہری نے دعوت ولیمہ دینے کا ایسا منفرد طریقہ ڈھونڈ نکالا

سوات (نیوز ڈیسک)آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ لڑکے کے پسند کی شادی نہ ہونے پر لڑکی کو گولی مار دی لیکن یہاں کچھ اور ہوا ایک نوجوان لڑکی عشق میں مبتلا ادھیڑ شخص کی جان لے لے۔ ایسا شاید آپ نے سنا ہو گا۔ لیکن ایسی ہی خبر خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے بری کوٹ سے آئی ہے۔اسلام آباد(نیوز ڈیسک) شادی ایک ایسی تقریب ہے جس پر آپ جتنا خرچہ کرے اور اتنا کم ہے لیکن شادی میں تقریبات کرنا امیر لوگوں کے لیے اتنی بڑی بات نہیں ہے لیکن مڈل کلاس اور غریب لوگوں کے لئے شادی کی تقریب کرنا ایک پہاڑ سے کم نہیں ہے لیکن نوشہرہ میں ہونے والی شادی کی تقریب میں سادگی کی اعلی مثال دیکھنے کو ملی۔

جہاں ولیمہ میں کسی کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔ بلکہ کھانے کو ڈبوں میں پیک کر کے اپنے رشتے داروں کے گھر بھجوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق نوشہرہ میں شہری نےدعوت ولیمہ کا کھانا پورے گاؤں میں گھر گھر تقسیم کرنے کی نئی روایت کا آغاز کر دیا، حاجی ناہید نے اپنے بیٹے کے ولیمہ کی تقریب میں پورے گاؤں میں سے کسی کو دعوت نہیں دی۔ بلکہ اپنے گھر میں اپنے بیٹے کےولیمے کا کھانا پکا کر پارسل ڈبوں میں بند کر کے اپنے رشتہ داروں کی مدد سے خدریزی گاؤں کے گھر گھر پہنچایا ، اہل علاقہ اپنے گھروں میں دعوت کا کھانا کھا کر خوشی سے نہال ہو گئے۔ حاجی ناہید کا کہنا تھا کہ آج کل شادیوں کا موسم ہے، ہر گاؤں میں ہر اتوار کو چار سے پانچ شادیاں ہو رہی ہیں۔ کسی کے پاس جانے کا وقت نہیں ہوتا ، اور دوسری جانب اگر کھانا کھانے کے لیے کوئی آ بھی جائے تو سارا کھانا چھوڑ دیتے ہیں، اس کا حل میں میں نے کچھ اس طرح نکالا کہ میں نے پارسل ڈبے منگوائے اور پورے گاؤں کے افراد کی ایک فہرست مرتب کی اور رکشوں میں ڈبے رکھ کر گاؤں کے ہر گھر کھانے کا ڈبہ پہنچایا۔ حاجی ناہید کے اہل خانہ، رشتہ داروں اور دوست احباب نے شادی اور کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے حاجی ناہید کی اس روایت کی خوب تعریف کی اور کہا کہ ایسے کھانا ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ عموماً لوگ شادیوں میں شریک ہو کر کھانے سے اپنی پلیٹیں تو بھر لیتے ہیں لیکن ان سے کھایا نہیں جاتا

 

اور یوں کافی تعداد میں کھانا ضائع ہو جاتا ہے البتہ حاجی ناہید کی جانب سے متعارف کروائی گئی یہ نئی روایت قابل عمل ہے جس کے ذریعے نہ صرف کھانا ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ لوگوں کو شادی میں شرکت بھی نہیں کرنا پڑتی اور کھانا ان کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ رواج ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہم اپنے علاقے اور محلوں والوں کے خوف سے کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کل وہ ہم پر ہنسے۔ اور اسی ڈر کی وجہ سے ہم اپنے اوپر قرضے چڑھا کر اس کے نیچے دب جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *