پاکستان کے بارے میں کرونا کلکولیٹر سے خوفناک انکشاف سامنے آگیا۔ کتنے پاکستانیوں میں یہ وباء پھیل سکتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ کرونا وائرس سے متاثر ممالک میں پہلے دس ممالک میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی یا بے روزگاری کے خوف سے باقی ترقی یافتہ ممالک کی طرح لوک ڈوان پر سختی سے عمل نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اور اب تک ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

موجودہ صورت حال میں حکومت ٹیسٹوں کی سہولیات اور ہسپتال میں علاج کی سہولیات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین صحت کے اندازہ کے مطابق حکومت پاکستان کے پاس وائرس سے متاثر افراد کی تعداد و شمار سے زیادہ لوگ وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں لیکن ان میں وائرس موجود ہے۔ آپ خود اس کیلکولیٹر کے ذریعے متاثرہ افراد یعنی مریضوں کا تناسب کم یا زیادہ کرکے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے دیہی یا شہری علاقوں میں اس کا کتنا اثر ہو گا اور وہاں مریضوں کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے۔ اہم مفروضات:اس ماڈل کے لیے پاکستان کی آبادی 21 کروڑ 20 لاکھ تصور کی گئی ہے جس میں 62 فیصد کو 18 سال سے زیادہ عمر کا تصور کیا گیا ہے۔ اہم مفروضات:پاکستان کی کل آبادی: 212,000,000، وائرس کے خطرے میں کل آبادی: 131,440,000،کتنی شہری آبادی کو خطرہ لاحق: 47,844,160، کتنی دیہی آبادی کو خطرہ لاحق: 83,595,840۔ تصور بھی یہی کیا گیا ہے کہ یہ افراد (یعنی 18 سال سے زائد عمر کی آبادی) کو کورونا وائرس لاحق ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے جب کہ نتائج کو آسان بنانے کے لیے صفر سے 18 سال عمر کے گروپ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

شہر اور گنجان آبادیوں میں وائرس پھیلنے کا تناسب زیادہ رکھا گیا ہے کیوں کہ وہاں پر لوگ بہت زیادہ بے اختیار کرتے ہیں اور قریب رہتے ہیںاگر مطلوبہ تناسب پر یقین کیا جائے تو پاکستان میں 77 لاکھ دس ہزار افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کے کیے نمبر صرف انداز پر مشتمل ہے اصل کیسز کے طور پر نہ لیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *