چوراورحج

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک بزرگ حج کے سفر پر گئے ایک جگہ سے گزر رہے تھے ان کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا‘ اس میں ان کے پیسے تھے ایک چور ان کے ہاتھ میں سے وہ تھیلا چھین کر بھاگ گیا۔ کافی دور جا کر اس کی آنکھوں کی بینائی اچانک زائل ہو گئی۔

اس چور نے رونا شروع کر دیا۔ لوگوں نے پوچھا بھائی کیا ہوا؟کہنے لگا میں نے ایک آدمی کا تھیلا چھینا ہے وہ کوئی بڑا مقرب بندہ لگتا ہے بڑا اچھا بندہ لگتا ہے میری آنکھوں کی بنائی زائل ہو گئی ہے خدا کیلئے مجھے اس کے پاس پہنچاؤ تاکہ میں اس سے معافی مانگ سکوں۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا؟ کہنے لگا کہ فلاں حجام کی دکان کے قریب پش آیا۔ لوگ اس کو اس دکان کے پاس لے کر آئے اور حجام سے پوچھا کہ اس طرح کا آدمی یہاں سے گزرا ہے؟ آپ اسے جانتے ہو؟ اس نے کہا مجھے اس کے گھر کا تو پتہ نہیں البتہ نمازوں کیلئے وہ آتے جاتے ہیں‘ اگلی نماز کیلئے پھر آئیں گے۔ یہ لوگ انتظار میں بیٹھ گئے تو اس چور نے جان کر ان کے ہاتھ پکڑ لئے کہ مجھ سے غلطی ہوئی‘ گناہ ہوا‘ نادم ہوں‘ شرمندہ ہوں‘ میری بینائی چھن گئی‘ آپ اپنے پیسے واپس لے لیجئے اور مجھے معاف کر دیجئے تاکہ اللہ تعالیٰ میری بینائی کو ٹھیک کر دے‘ وہ بزرگ کہنے لگے کہ میں نے تو تجھلے پہلے ہی معاف کر دیا ہے یہ بات سن کر چور بڑاحیران ہوا کہنے لگا۔

حضرت! میں تو آپ کا تھیلا چھین کر بھاگ اور آپ فرماتے ہیں کہ معافی مانگنے سے پہلے ہی آپ نے معاف فرما دیا‘ وہ فرمانے لگے کہ ہاں میرے دل میں کوئی بات آ گئی تھی‘ فرمانے لگے کہ میں نے ایک حدیث پڑھی جس میں نبی اکرمؐ نے فرمایا قیامت کے دن جب تک میری امت کا حساب پیش کیا جائے گا تو میں اس وقت تک میزان کے قریب رہوں گا جب تک کہ میرے آخری امتی کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ میرے دل میں یہ بات آئی کہ اگر میں نے اس چور کو معاف نہ کیا تو قیامت کے دن یہ مقدمہ پیش ہو گا اور جتنی دیر میرے اس مقدمہ کا فیصلہ ہونے میں لگے گی اللہ کے محبوبؐ کو اتنی دیر جنت سے باہر رہنا پڑے گا اس لئے میں نے معاف کر دیا۔ نہ تو مقدمہ پیش ہو گا نہ ہی میرے محبوب کو جنت میں جانے میں دیر لگے گی۔۔۔۔ یہ بھی پڑھیں۔۔۔ استغفار کیا ہے؟کسی شخص نے حضرت علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہکے سامنے بُلند آواز سے”اَستغفر اللّٰہ”کہا تو آپ رض اللہ تعالی عنہ نے اُس سے فرمایا” کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیا ہے؟ ‘استغفار’, “بُلند منزلت لوگوں” کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے۔ ا(اوّل ) یہ کہ جو ہو چکا اُس پر نادم ہو۔ (دوم) یہ کہ ہمیشہ کے لیے اُس کے مرتکب نہ ہونے کا پکّا ارادہ کر چُکا ہو۔ (سوئم) یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا۔

یہاں تک کہ اللّٰہ کے حضور میں اِس حالت اِس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف ہو اور تم پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔ (چہارم) یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے اور تم نے انہیں ضائع کر دیا تھا اُنہیں اب پورے طور پر بجا لاؤ۔ (پنجم) یہ کہ جو گوشت حرام سے نشوونما پاتا رہا ہے اُس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤ یہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملا دو کہ پھر سے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو۔ اور (ششم) یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو جس طرح اُسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے۔ اور پھر کہو “استغفر اللّٰہ”۔ .. نہج البلاغہ ..اِس فرمان سے یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ استغفار نہیں پڑھنا چاہیے یا بُلند آواز میں استغفار پڑھنے میں کوئی بُرائی ہے بلکہ یہ فرمان استغفار اور استغفار پڑھنے والے کا صحیح مقام پہچاننے اور اپنے قول میں صادق ہونے کا تقاضہ کرتا ہے۔ اِس فرمان میں اِس جانب اشارہ ہے کہ جب تک تُو نے دنیا سے (جو گناہ اور فریب کا جہان ہے) مُنہ ہی نہیں موڑا, گزشتہ خطاؤں سے صدقِ دل سے توبہ ہی نہیں کی تو تُو کس حق سے اللّٰہ سے مغفرت کا طلبگار ہو رہا ہے۔؟ ساتھ ساتھ اِس جانب بھی اشارہ ہے کہ سَر محفل باآوازِ بُلند استغفر اللّٰہ کہنے میں نفس کی خواہش پوشیدہ ہو سکتی ہے کہ لوگ میری زبان سے استغفار سُن کر مجھے پاکباز سمجھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بُلند منزلت لوگوں کی نشاندہی بھی فرما دی کہ ایسے لوگ اللّٰہ سے مغفرت طلب کرنے کے حقدار ہیں جو گُناہ کے جہان سے خود کو الگ کر چُکے ہیں ورنہ جس نے گُناہ کا ارادہ ہی نہیں چھوڑا جس نے اللّٰہ کی جانب رُخ ہی نہیں پھیرا اُس کا یہ کہنا ہی درست نہیں ہے کہ میں اللّٰہ سے مغفرت کا طلبگار ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *