چڑیاں کہاں گئیں

ہمارے کانوں میں اپنی میٹھی میٹھی آواز سے رس گھولنے والی اور صبح ہوتے ہی اپنی چہچہاہٹ سے لوگوں کو جگانے والی چڑیا آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔چڑیا کو ہمارے ادب، لوک روایات اور قصہ کہانیوں میں ایک منفرد مقام حاصل رہا ہے۔ اس کو مخاطب اور تشبیہ کے طور پر ہمارے صوفی شعراء نے اپنے کلام میں جگہ دی ہے۔اردو محاورہ ’کس چڑیا کا نام ہے‘ جو کہ کسی شخص یا چیز کی اہمیت کے بارے میں جاننے کیلئے بولا جاتا ہے، اب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

 

آج ہمارے وسیب کا یہ ننھا منا ساتھی اْس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اگر ہم انسانوں نے اس کے تحفظ کیلئے کوئی قدم نہ اٹھایا تو شاید آنیوالے سالوں میں یہ جانور بھی ناپید ہو جائے۔اگر ہماری چڑیا ناپید ہو گئی تو صرف لوک کہانیوں کا حصہ بن کر رہ جائے گی اور آنیوالی نسلوں کو صرف تصویروں میں ملا کرے گی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت پرندوں کی 786 نسلیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے 39 سے زائد نسلوں کو اپنی زندگی بچانے کے لالے پڑ چکے ہیں۔محکمہ وائلڈ لائف سے ملنے والی معلومات کے مطابق چڑیا، ایشیاء ، یورپ اور افریقہ کے علاوہ دنیا کے سارے براعظموں میں پائی جاتی ہیں۔

 

برصغیر میں چڑیا ایک عام پرندہ ہے۔ عام طور پر یہ چڑیا گندمی، بھورے رنگ اور چھوٹی جسامت کی ہوتی ہے۔چڑیا دانہ دنکا چگتی اور کیڑے وغیرہ کھاتی ہے۔ ان کو گھریلو چڑیا اس لیے کہتے ہیں کہ یہ گھروں میں اپنا بسیرا کرتی ہیں۔یاد رہے کہ برطانیہ میں سات سال پہلے ہی گھریلو چڑیا کو ناپید ہوتے جانوروں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا۔سوشل ویلفیئر اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، بورے والا کے صدر شیر خان کھچی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس حوالے سے دیہاتوں کی نسبت شہروں کی صورت حال زیادہ خطرناک ہے۔ان پرندوں میں گھریلو چڑیاں بھی شامل ہیں۔ جن کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ کمی کی وجہ فضائی آلودگی اور زہریلی ادویات کا استعمال ہے۔

 

وہاڑی ڈسٹرکٹ آفیسر وائلڈ لائف ڈاکٹر زاہد فاروق کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، فصلوں پر زہریلی ادویات کے چھڑکائو اور کچے گھروں کی جگہ پکے مکانات کی تعمیر سے چڑیوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔وائلڈ لائف آفیسر کا کہنا ہے کہ ضلع وہاڑی میں چڑیوں کا شکار نہ ہونے کے برابر ہے۔ آج تک کسی شخص کے خلاف چڑیوں کے شکار کی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ڈسٹرکٹ وائلڈ لائف آفیسر کا دعویٰ اپنی جگہ مگر آج بھی دیہاتوں میں جوان ہاتھوں میں رائفلیں اٹھائے چڑیوں اور فاختاؤں کا شکار کرتے نظر آتے ہیں۔اگر ہمیں اپنے ماحول میں اپنی آواز سے رس گھولنے والے اس ننھے پرندے کو بچانا ہے تو آج سے ہی سنجیدگی کیساتھ اس مسئلے پر سوچ وچار کرنی ہوگی۔شہری کیا کر سکتے ہیں؟اگر آپ کسی کو چڑیوں کا شکار کرتے دیکھے تو فوری طور پر محکمہ وائلڈ لائف کو اطلاع دیں۔اس کے علاوہ ہمیں اپنے ڈیروں اور گھروں میں بھی ان پرندوں کے رہنے کیلئے کچھ انتظامات کرنے ہوں گے ورنہ شہر بالخصوص ان خوبصورت ننھے منے پرندوں سے محروم ہوں جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *