چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا حیران کن بیان سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) میں کمیشن کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا میں نے صرف جسٹس فائز عیسیٰ سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی درخواست کی تھی لیکن وہ احترام میں اس وقت تک بات نہیں کرنا چاہتے جب تک کہ میں بات مکمل نہ کرلوں، اب کہوں گا۔

اگر آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس کے لیے میری رائے درکار ہے تو میں اس کا جواب دوں گا ،تو سب سے پہلی چیز جو میں آج کی بحث سے اکٹھی کر سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ماشااللّٰۃ ،جسٹس طارق مسعود اور جسٹس سرمدعثمانی نے جسٹس پھل پوٹو کے فیصلوں کو اوسط سطح کا قراردیاہے جبکہ ان دونوں کا یہ خیال مسٹر ایکورسنڈ اور اعظم نذیر تارڑ کے خیال جیسا ہی نظر آتا ہے، میں آپ کا احترام کرتا ہوں اور اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک چیز کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم اس پر زور نہیں ڈالیں گے، میں دیکھ سکتا ہوں کہ آپ کو یاد ہے کہ سردار صاحب ہم ہائی کورٹ کے جج کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اور ہمیں ان کے جذبات کا بھی احترام کرنا ہوگا جس طرح ان کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے، جیسا کہ اختر حسین اور جسٹس سرمد عثمانی نے کہا ہے کہ ماضی قریب میں رونما ہونے والے واقعات سے جسٹس عقیل عباسی کا مزاج کیسے متاثر ہوا ہے، اسی طرح، ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ججوں کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے، ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے، پھل پوٹو صاحب سندھ ہائی کورٹ کے سیریل نمبر سات کے جج ہیں، وہ اچھا کام کر رہے ہیں ،وہ ہمارے پاس سفارش کروانے نہیں آئے، یہ میری اپنی تحقیق ہے۔

کہ میں نے ان کا نام منتخب کیا ہے ،اگر آج نہیں تو کل وہ اچھا سامنے آئے گا ،ورنہ یہاں 9 لوگ (اراکین جوڈیشل کمیشن) بیٹھے ہوئے ہیں، وہ پھر ان کے کام کا تجزیہ کریں گے اور کسی نتیجے پر پہنچیں گے،ہم مانگیں گے تو ہی ان کا نام بھیجنے کی منظوری ملے گی ، وہ منظور شدہ نہیں ہیں،اس کے درمیان کچھ بھی نہیں ہے ،اور دوسری چیز میرے بھائی نے کہی آپ اس فیصلے کو واپس لے سکتے ہیںجوکہ ہوچکاہے ،اور اس وقت سارے لوگوںنے تجویز کیا ہے ،یہ فیصلہ اکثریت سے کیا گیا ہے ،آپ کے سامنے ایک دو نہیں چار بیٹھے ہیں،فیصلہ چیئرمین کا ہوتا ہے ،فیصلہ اکثریت سے ہوگا ،سردار صاحب اتنا آگے مت جائیں ،یہ منظور یا نامنظور کرسکتے ہیں، یہ دو لفظ ہیں،سر یہ ہیں، میں اس لئے کہہ رہا ہوں پہلے بھی ہمارت ساتھ اسی طرح ہوا ہے ،جب جسٹس عائشہ کی بات تھی ،حتیٰ کہ وہ اچانک اٹھ کر چلے گئے ،پتہ ہی نہیں لگا کہ انہوںنے فیصلہ کیا ہے ،انہوںنے کہاکہ عائشہ کا نام رکھو اور کمیشننے منظوری نہیں دی تھی ،یہ لازماًلکھنا چاہیئے ،اسلئے کہ ؟کیونکہ یہ منظور ہی نہیں ہوا ہے ، اس طرح تو معاملہ نہیں ہوتا ہے ،روز دوسرے دن وہی بندے آجائیں گے ،تیسرے دن وہی بندے ،ختم ،اس طرح تو معاملہ جو آئی ورلڈ ہے ،کم ازکم آج آجائے گا۔

آسکتے ہوں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ،لیکن یہی منٹ میں آنا ہے ، اس کی ضرورت ہے ،ان کے نام نامنظور ہوچکے ہیں وہ یہ کہ ہمیں ذہن میں رکھنا ہوگا ،کہ ہم اسے ذہن میں رکھتے ہیں،۔ آپ اس کے بارے میں بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں، کیونکہ آپ نے وہی کام کیا ہے جب ہمارے پاس یہی ایک چیز تھی جب ہمارے ذہن میں ہائی کورٹ کی کی تقریاں تھیں زیر غور تھیں، اور میں آپ کے نقطہ نظر کو سمجھتا ہوں، آپ کو اس بات کی فکر ہے کہ جب کوئی مسترد ہو جائے تو آپ کو دوبارہ سامنے نہیں آنا چاہیے، دوسروں کے ناموں کااحترام کرنا چاہیئے ،حوالے سے ضرور لینا چاہیے، جو تجویز دی گئی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں قواعد طے کرنے چاہییں، اور اس کے بعد یہ تقرریاں کرنی چاہیئیں ، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان ناموں پر فی الحال کوئی شدید اعتراض نہیں ہے۔ اور دوسری طرف ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ہمیں کچھ دوسرے فاضل ججوں کے ناموں پر بھی غور کرنا چاہیے جن کا ذکر بحث کے دوران ان کی قابلیت اور قابلیت وغیرہ کی بنا پر کیا گیا ہے،سپریم کورٹ میں ترقی یا تقرری کے لیے ایک جج کی دیانتداری سب سے بنیادی چیز ہے،۔ تو باقی ججوں کے سلسلے میں، کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نے تجویز کیا تھا۔ میں کہوں گا کہ آئیے اس میٹنگ کو موخر کریں ۔

اور امیدواروں کا اندازہ لگانے کے لیے اپنے معیار کو مضبوط بنیادوں پر کم کرنے کے امکان کا جائزہ لیں۔ اس سلسلے میں میں آپ سے ایک ہی گزارش کروں گا کہ جب میں اس وقت اٹارنی جنرل ، اختر حسین ایڈوکیٹ اور جسٹس سرمد عثمانی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ہماری نتیجہ خیز گفتگو ہوئی تھی۔ اور یہ وہ چار نکات تھے جو ابھرے تھے، جنہیں اب میں اعلیٰ ترین معیار سمجھتا ہوں،۔ اس کے علاوہ اس بات پر غور کیا جائے کہ اب ہمیں سنیارٹی کی بنیاد پر امیدواروں کا اندازہ لگانا چاہیے اور یہ صرف سپریم کورٹ میں ہی ہوگا، کیونکہ ،ما سوائے ضلعی عدلیہ کے ججوں (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز)کے، ہائی کورٹوں میں سنیارٹی کی بنیاد پر تقرریاںنہیں ہوتی ہیں ،اس لئے ہمیںسپریم کورٹ کے لیے سنیارٹی کے مطابق جانا چاہیے، اب میں نے اپنی تجاویز پیش کرنے میں اس اصول کواپنانے کی کوشش کی ہے، میں نے اپنے نامزد کردہ امیدواروں کے حق میں وجوہات بتانے کی کوشش کی ہے،اور فاضل ججوںنے مجھے درپیش مشکلات کو نظرانداز کر دیاہے اور میں یہ بات خاص طور پر سردار طارق مسعود صاحب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ وہ اس بارے میں بہت زور دیتے رہے ہیں اور اسی طرح جناب اختر حسین ایڈوکیٹ نے بھی بار ایسوسی ایشنوں کے جذبات واحساسات کے لئے آواز بلند کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *