کورونا وائرس میں مبتلا شاہ محمود قریشی کو اچانک ہسپتال منتقل کر نے کی خبر آ گئی۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) خیل رہےاس وبا نے دنیا کی کسی بھی ادارے اور اور کسی بھی جگہ کو نہیں چھوڑا اور نئے کسی رنگ نسل کو چھوڑا۔ پچھلے دنوں ہمارے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب بھی کرونا کا شکار ہوئی اور پھر ان کو میرے فوجی ہسپتال راولپنڈی میں زیر علاج رہے۔ اور اس بار پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس کا شکار ہو گئ۔ اس نے اپنے آپ کو گھر میں ہی کرنطنیہ کر دیا ہوا تھا۔ اوہ ملٹری ہسپتال راولپنڈی منتقل کردیا ہے۔

جہاں ان کا خیال رکھا جائے گا واضح رہے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی اچانک ہسپتال منتقل کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے لیکن اب بات بازی ہو گئی ہیں کہ ان کی حالت کافی بگڑ گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے گھر میں ہی خود کو تنہا کرلیا ہے۔تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو ملٹری اسپتال راولپنڈی منتقل کردیا گیا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہیں بخار تھا اور کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ایک ہی دن بعد ان کو ہسپتال منتقل کیے جانے کا مطلب ہے کہ ان کی طبیعت زیادہ ناساز ہے جبکہ ان کے اس وائرس کو شکست دینے کے چانسز 97٪ بتائے جا رہے ہیں ۔ دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینن ریسرچ آئی پور نے تازہ سروے میں لوگوں سے سوال پوچھا کہ موجودہ حالات میں آپکے کے مطابق کونسی شخصیت پاکستانیوں کے مسائل حل کروا سکتے ہیں؟ مثلاً کورونا وائرس، ٹڈی دل کے حملے اور کمزور معیشت کو کون سنبھال سکتا ہے؟ اس کے سروے کے حیران کُن نتائج نہایت ہی حیران کُن تھے کیونکہ شہباز شریف عوام میں زیادہ مقبول دکھائی دیے۔ شہبازشریف کی عمران خان سے مقبولیت میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔27 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پاکستان کو ان مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ کمزور پالیسیوں کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت میں کافی کمی آئی ہے اور مسلم لیگ ن کی پوزیشن کافی اچھی ہو گئی ہے۔ اگر عمران نے اپنی پوزیشن ٹھیک نہیں کی۔ اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کی تو آنے والے الیکشن میں سخت شکست سے دوچار ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *