کے پی کے والوں کیلئے خوشخبری، بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح، متوقع تاریخ سامنے آ گئی

پشاور (نیوز ڈیسک) پشاور بی آر ٹی کی بارے میں تو سب کو پتہ ہے۔ جو کافی وقت سے تاخیر کا شکار ہے۔ لیکن آخر کار صوبائی حکومت نے اس کے افتتاح کرنے کی تاریخ طے کردی۔ 14اگست سے بی آر ٹی کے ممکنہ منصوبے کے افتتاح کے پیش نظر غیر قانونی ڈیڑھ لاکھ سے زائد رکشوں کے 27کلو میٹر کے روٹس پر چلنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ بی آر ٹی میں بھرتی کے لئے انٹرویوز بھی مکمل ہو گئے ہیں انٹرویوز گزشتہ روز مقامی شادی ہال میں ہو ئے بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح ممکنہ طور پر 14اگست کو کیا جارہا ہے۔ جس کے لئے انتظامات مزید تیز کئے گئے ہیں۔

صوبائی دارلحکومت پشاور میں 1لاکھ 80ہزار سے زائد رکشوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائدغیر قانونی ہے جس کے باعث شہر میں ٹریفک کا نظام بری طور پر متاثر ہے۔ صوبے کے دیگر اضلاع کے رکشے بھی پشاور میں چل رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ستائیس کلو میٹر بی آر ٹی منصوبے کے روٹس پر رکشوں کے داخلے پرپابندی عائدکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر قانونی رکشوں کے خلاف آپریشن یکم اگست سے شروع کیا جارہاہے۔ صرف 24ہزار رکشوں کو جو کہ قانونی ہے۔ کی روٹ پرمٹ تجدید کی جائیگی ایک ہی پلیٹ نمبر پر مختلف علاقوں میں چار سے زائد رکشے بیک وقت چل رہے ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت نے بی آر ٹی منصوبے کے پیش نظر روٹ پرمٹ کی تجدید پر پابندی بھی عائد کی ہے۔ بی آر ٹی منصوبے کے پیش نظر غیر قانونی رکشوں کے خلاف آپریشن کے لئے پہلے اس ضمن میں انہیں نوٹس جاری کردیا جائے گا۔  14اگست سے بی آر ٹی کے ممکنہ منصوبے کے افتتاح کے پیش نظر غیر قانونی ڈیڑھ لاکھ سے زائد رکشوں کے 27کلو میٹر کے روٹس پر چلنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ بی آر ٹی میں بھرتی کے لئے انٹرویوز بھی مکمل ہو گئے ہیں۔ انٹرویوز گزشتہ روز مقامی شادی ہال میں ہو ئے بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح ممکنہ طور پر 14اگست کو کیا جارہا ہے۔ جس کے لئے انتظامات مزید تیز کئے گئے ہیں۔ صوبائی دارلحکومت پشاور میں 1لاکھ 80ہزار سے زائد رکشوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائدغیر قانونی ہے۔ جس کے باعث شہر میں ٹریفک کا نظام بری طور پر متاثر ہے۔ واضح رہے کہ اس سے غریب غریب طبقہ متاثر ہوگا مطلب رکشاہ اور بس لیکن اب دیکھنا یہ ہے۔ کہ اس کے لئے حکومت کیا پالیسی اختیار کریں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *