گندم کا بورا

ایک دیہاتی اونٹ پر گندم کا بورا لے کر جا رہا تها- وزن دونوں طرف برابر رکهنے کے لیے اس نے ایک طرف گندم کا بورا اور دوسری طرف ریت کا بورا رکها ہوا تها- اونٹ وزن زیادہ ہونےکی وجہ سے تهک گیا- ایک سوال کرنے والے نے اس سے پوچها تم نے کیا بهرا ہوا ہے؟- وہ بولا: ایک بورے میں گندم اور وزن برابر کرنے کے لیے دوسرے بورے میں ریت ہے۔ عقل مند نے کہا: بجائے ریت بهرنے کے گندم کو ہی آدها آدها بهر لیتے- دیہاتی کی عقل میں یہ تجویز نہ آئی تهی-

وہ بہت خوش ہوا- اس نے پوچها: اے دانش مند! اپنا احوال بتا؟ تو بادشاہ ہے یا وزیر ہے؟ تو کتنا امیر ہے؟ تو بہت عقل مند ہے ‘ تیرے پاس تو خزانے ہوں گے- اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے- روٹی کی امید پر مارا مارا پهرتا ہوں – دیہاتی نے کہا اتنی عقل کے ہوتے ہوئے اتنی غربت ‘ تنگی اور افلاس بدبختی کی علامت اور دلیل ہے- تیرا ساتھ میرے لیے بہتر نہیں- میری بےوقوفی تیری عقل سے بہتر ہے- تو اپنی عقل اور دانائی کو کم کر لے تاکہ بدبختی کم ہو جائے۔وہ دانائی’ عقل اور چالاکی جو فطری ہو اور اللہ کی معرفت’ پہچان’ محبت’ ایمان ‘ یقین اور نور سے بے فیض اور خالی ہو’ بدبختی اور شقاوت کا سبب بنتی ہے- دنیا کی سمجه’ ہوشیاری’ چالاکی ظن اور شک بڑهاتی ہے اور دین کی سمجه ‘ فہم و فراست آسمان پر لے جاتی ہے- عقل والے اکثر مکر و فریب اور حیلے بہانے سیکهتے ہیں- اصل عقل ‘ دانائی اور سمجه تو وہ ہے جس سے اللہ کی طرف جانے کا راستہ کهلے’ اللہ اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہچان اور معرفت حاصل ہو ‘ اللہ کی رضا اورمحبت کی طرف بڑهے اور ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرے- دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سلطنت اور عشق لازوال ہے۔
مثنوی رومی’ دفتر سوم’ مولانا جلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *