گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی طالبہ کے انکشافات

لاہور(ویب ڈیسک) آئے روز نجی تعلیمی اداروں میں شرمناک سکینڈل کی وجہ سے والدین بے حد پریشان ہیں۔ اور ہر کوئی اپنے بچوں کی عزت غیر محفوظ سمجھنے لگ رہے ہیں۔ گزشتہ روز لاہور کے مشہور نجی تعلیمی ادارے میں شرمناک اسیکنڈل سامنے آنے کے بعد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں بھی ایسے ہی ایک واقعہ کا انکشاف ہوا ہے۔ جی سی یو لاہور کی طالبہ کی جانب سے شعبہ فزکس کے استاد پر شرمناک الزام لگایا گیا ہے۔

جس کے بعد انتظامیہ نے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی۔ جی سی یونیورسٹی کے ایک طالبعلم نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں ساتھی طالبہ کے ساتھ شرمناک واقعہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ طالبعلم نے الزام عائد کیا کہ فزکس ڈیپارٹمنٹ کے استاد کی جانب سے طالبات کو چھیڑا اور تنگ کیا جاتا رہاہے، کچھ روز قبل اس استاد نے ایک طالبہ کو ویڈیو کال کی، اس ویڈیو کال کے وقت ٹیچر غیر اخلاقی حالت میں تھا۔ اور اس کال کے سکرین شاٹ بھی انکے پاس موجود ہیں۔ معاملے کی انکوائری کیلئے انتظامیہ کی جانب سے ایک پانچ رکنی کمیٹی بنا دی گئی، جس میں ایک خاتون پروفیسر کوبھی شامل کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا کہ کوئی بھی طالبعلم کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر ثبوت پیش کرسکتا، اور بیان ریکاڈ کروا سکتا ہے،اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ جی سی یو سے قبل بھی اس قسم کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جس پر اساتذہ کو نوکری سے فارغ بھی کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایک معروف نجی سکول میں لڑکیوں کو شرمناک پیغامات بھیھجنے کا اسکینڈل منظر عام پر آنے بعد بحث جاری ہے۔ واضح رہے کہ ایسے سکینڈل پہلی بار تعلیمی اداروں میں نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی کہیں بار اس طرح کی حرکتیں ہوئی ہیں۔ جس میں گومل یونیورسٹی ڈی ائی خان کی وائس چانسلر انہی حرکتوں کی وجہ سے معطل ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *