ہم نے نہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ تسلیم کرنے والے ہیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسمبلی اجلاس میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے نہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ اور نہ ہی اس طرح کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ۔گلف ممالک کے دباو میں آکر ہرگز اپنی پالیسی پر سمجوتہ نہیں کر رہے ۔ شاہ محمود نے کہا کہ بیان پر اعتراض کیا گیا کہ بھارت کے سکیورٹی کونسل کا رکن بننے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ واضح کرنا چاہتاہوں بھارت کے مستقل رکن بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پاکستان اور بھارت، 7 مرتبہ سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن رہ چکے ہیں۔جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی بجٹ پربھی تقریر کی۔

بحث جاری رہی، اس دوران تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید اوراپوزیشن کے درمیان تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس کو وقتی طور پر ملتوی کردیا گیا۔مراد سعید کی جانب سے خواجہ آصف کو جھوٹا اور اپوزیشن اراکین کو ’’او چور بیٹھو‘‘کہا گیاجس پرایوان میں ہنگامہ برپا ہوگیا، گالم گلوچ ہوئی، سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔مرادسعید کاخطاب شروع ہوتے ہی بلاول بھٹو سمیت پیپلزپارٹی کے تمام ارکان ایوان سے چلے گئے۔

منگل کوقومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا۔ خواجہ آصف نے کہا وزرا سے کچھ بیانات منسوب کیے گئے کہ بھارت سلامتی کونسل کا ممبر بن جائے تو قیامت نہیں آئیگی،اسرائیل کیساتھ تعلقات کی بات کی گئی۔خواجہ آصف کے نکتہ اعتراض کو جھوٹا کہنے پر اپوزیشن نے مراد سعید کیخلاف احتجاج کیا ۔ مراد سعید نے گفتگو شروع کی تو اپوزیشن کی جانب سے احتجاج شروع کردیا گیا۔مراد سعید نے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ یہاں سے کوئی اٹھے اور دھمکیاں دی جائیں۔مراد سعید کے خطاب پر شور شرابا شروع ہو گیا اور اپوزیشن، حکومتی اراکین میں بحث چھڑ گئی۔ قاسم سوری نے کہا کہ میں کسی کی دھمکی میں نہیں آؤں گا اور ہاؤس قانون کے مطابق چلے گا۔سپیکر نے مسلم لیگ ن کے رانا تنویر کو گفتگو کی اجازت دی لیکن حکومتی اراکین خصوصاً مراد سعید نے انہیں بولنے کا موقع نہ دیا۔مراد سعید اور شیخ روحیل اصغر میں تلخ جملوں کاتبادلہ ہوا ،اراکین نے ایک دوسرے کو گالم گلوچ کی۔

مراد سعید کی جانب سے اپوزیشن کو کہا گیا کہ او چور بیٹھو جسکے بعد احتجاج شدت اختیار کر گیا۔مراد سعید مستقل اپوزیشن اراکین کو کو چور کہہ کرمخاطب کرتے رہے ۔ ہنگامہ آرائی کے سبب سپیکر کو اجلاس 10منٹ کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔بعدازاں قومی اسمبلی کے اجلاس کو دوبارہ بحال کر دیا اور ہر اراکین اسمبلی نے اپنا موقف پیش کیا۔اس بار سالانہ بجٹ میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے پلے کارڈ لے کر آئے جس پر مختلف نعرے لکھی ہوئی تھی۔اپوزیشن کا موقف یہ تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے نااہل حکومت ہے۔حالانکہ پی ٹی آئی کی حکومت کا دعوی یہ ہے کہ جتنا قرضہ ہم نے اپنے اقتدار میں ختم کیے اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں ختم کیے ہے۔لیکن بدقسمتی سے کرونا نے صرف پاکستان کو ہی نہیں ساری دنیا کی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔کرونا سے صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں بے روزگاری کی شرح کافی زیادہ بڑھ جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *