یہ شخص جس کا نام ناسوخ تھا جو حقیقت

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک شخص جس کا نام ناسوخ تھا اس کا چہرہ عورتوں سے مشابہت رکھتا تھا مگر حقیقت میں وہ ایک مرد تھا۔ اس نے عورتوں کی حمام میں نوکری حاصل کر لی جہاں عورتوں کو نہہ لایا جاتا تھا یہ کوئی عام حمام نہیں تھا بلکہ یہاں شہزادیا نہانے کے لئے آیا کرتی تھی۔

یہ شخص جس کا نام ناسوخ تھا جو حقیقت ایک مرد تھا لیکن دیکھنے میں عورت جیسا تھا وہ حمام میں عورتوں کو دن بھر دیکھتا اور جسم کے مختلف حصے دیکھ کر بڑے بڑے گناہوں کا مرتکب ہو رہا تھا ناسوخ کئی بار اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی لیکن ہر بار شیطان کے بہکاوے میں آکر بار بار گناہ کے مرتکب ہو جاتا۔ ناسخ نے ایک بار گناہ کے بارے میں درویش سے کہا اور درویش اس کے گناہوں کے بارے میں جانتا تھا۔ لیکن درویشوں کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ اور عیب سے پردہ نہیں اٹھاتے اور ان کی برائیاں جانتی ہیں بھی کسی سے اس کے بارے میں تذکرہ نہیں کرتے۔ نہ درویش نے ناسوخ سے کہا کہ جن گناہوں کے آپ مرتکب ہو رہے ہو۔ اللہ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ مانگو اللہ تعالی آپ کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔ نصوح نے توبہ کرلی لیکن پھر بھی وہ جاکر شہزادی کو نہ لایا کرتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ناسوخ کسی شہزادی کو نہلا رہی تھی تو اسی دوران ایک شہزادی کی قیمتیں موتی گم ہوگئی۔ وہ موتی ڈھونڈنے لگیں لیکن موتی نہیں ملی۔ شہزادی نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کے ساری لڑکیوں کے کپڑے اتار کر تلاشی لی جائے۔ ناسوخ کو اب پتا چلا کہ وہ ساروں کے کپڑے اتروائے جائیں گے۔ جس میں اس کی بھی کپڑے اتروانے والے تھے ان کو پتا تھا کہ اس کے کپڑے اترنے کے بعد جب بادشاہ کو پتہ چل جائے گا یقیناً وہ مجھے قتل کریں گے

ناسوخ جو ڈر چکا تھا وہ موقع دیکھ کر حمام سے بات کر ساتھ والے کمرے میں جا کر اللہ سے دعا کرنے لگا ہوں کی اللہ میں نے کئی بار توبہ کیا ہے لیکن ہر بار توڑا ہے یا اللہ اس بار مجھے معاف کر بے شک تو معاف کرنے والا ہے اس کے بعد پھر میں کوئی گناہ نہیں کروں گا نصوح اس وقت اتنا خوفزدہ تھا کہ اس نے یہ بھی کہا کہ یا اللہ اگر آج میں جھوٹی توبہ کرو تو میری توبہ قبول فرما نصوح دعا کرتے ہوں یہ رو پڑا اور اللہ کے سامنے اس قدر رونے لگا کہ وہ بے ہوش ہوگیا کچھ ہی دیر میں ایسا لگا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول فرمائی اور باہر سے آواز آئی کہ مبارک ہو موتی مل گئی ہیں۔ اب نصوخ کو پتہ چل گیا کہ آب موتی ملنے کے بعد حمام میں تلاشی روک دی جائے گی اور تعالی نے اس کے پردہ پاش نہیں کیا۔ جب وہ ہوش میں آیا تو حیران ہو گیا حمام کے سارے لڑکیاں اور شھزادی ان کے اردگرد جمع ہوگئی تھی۔ اور ان سے معافی مانگ رہی تھی کہ ہمیں معاف کر دیں ہمارا سارا شک آپ پر تھا کیوں کہ آپ ہی شہزادیوں کے سب سے قریب تھی۔ بے شک اللہ تعالی سچے دل سے توبہ کرنے والوں کو معاف کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان کی گناہوں پر پردہ ضرور ڈالتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *