یہ وہ درخت ہے جو اکھڑ جائے تو پھر کبھی نہیں لگتا ۔

ایک بزرُ گ بیمار ہوئے تو ان کی والدہ ان کی عیادت کو تشریف لائیں وہ بزرگ اپنی والدہ کی آمد کا سُن کر ہشاش بشاش ہو کر اٹھے اور والدہ کے سر کا اور پاوں کا بوسہ لیا اپنی حالت کا ادراک ان کو نہ ہونے دیا اور نہایت چستی کی حالت میں بیٹھ کر والدہ سے بات چیت کرتے رہے مگر جونہی والدہ گھر سے رخصت ہوئی

یہ تکلیف کی وجہ سے بستر پر گر پڑے اور ان پر غشی طاری ہو گئ۔ جب ہوش آیا تو اہل خانہ نے پوچھا کہ آپ نے اس طرح اپنے آپ کو مشقت میں کیوں ڈالا ؟؟ تو فرمانے لگے کہ بچے کی ہر ہائے اور درد بھری آواز والدین کے دل میں زخم کر دیتی ہے اس لیے میں اپنی والدہ کو اس عذاب سے گزارنا نہیں چاہتا تھا
شاید آپ کے والدین نے آپکی توقعات کو پورا نہ کیا ہو ؛؛ مگر یقین کریں ان کے پاس جو بھی تھا انہوں نے وہ سب آپ پر لٹا دیا ہے۔ جب ہم زندگی کی رونقوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بھلے والدین کو بھول جائیں لیکن دکھ میں سب سے پہلے وہی یاد آتے ہیں۔ والدین کی قدر کرو۔ یہ وہ درخت ہے جو اکھڑ جائے تو پھر کبھی نہیں لگتا۔ان کی خدمت کر کے دعاؤں کے پھل سمیٹ لو ۔۔!!  ماں زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی کا مینار ہے ؛؛ اور باپ ٹھوکروں سے بچانے والا مضبوط سہارا ہے۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *