یہ ہوتا ہے انصاف انسانی تاریخ کا انوکھا اور عجیب فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک پندرہ سالہ لڑکا چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اسٹور گارڈ نے ان کو موقع پر ہی پکڑ لیا لڑکے نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوا اور مزاحمت کے دوران سٹور کا شلف بھی ٹوٹ گیا۔ لڑکے فردِ جرم عائد کرنے کے لئے کورٹ بھیج دیا گیا۔ جحج نے سارا ماجرا سونا۔ اور لڑکے سے پوچھا کہ تم نے سٹور سے کوئی چیز چورائی ہے۔ لڑکے نے جواب دیا جی ہاں بریڈ اور پنیر کی پیکٹ۔ جج نے وجہ پوچھی تو لڑکے نے مختصر جواب دیا مجھے ضرورت تھی۔

جج نے کہا کہ چوری کی کیا ضرورت تھی خرید لیتے”پیسے نہیں تھے”گھر والوں سے لے لیتے”لڑکے نے جواب دیا گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔”جج نے پوچھا تم کچھ کام نہیں کرتے”لڑکے نے جواب دیا کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔”تم کسی سے مدد مانگ لیتے”صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی”جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا”چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔” یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے”اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔” فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے “اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔ فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔ کفر” کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں، پوسٹ آچھی لگی ہو تو شیئر ضرور کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *