کوہاٹ(نیشنل نیوز ) کوہاٹ میں قتل ہونے والی حریم فاطمہ کے قتل کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ملزمہ نے بچی کے والد اور چچا پر الزام لگا دیا۔انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے خاندان اور عمائدین علاقہ نے 6 اپریل کو ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ پولیس تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے بچی کے خاندان والوں پر دباؤ ڈال رہی ہے اور وہ نامزد ملزمان پر دفعہ 164 کے تحت دعویداری کریں۔

حریم فاطمہ کے دادا کا کہنا ہے کہ پولیس تحقیقات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے، اس لئے اعلی افسران اور ان کے ماتحت ملزمہ کی گرفتاری کے دن سے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ دعویداری اسی ایک ملزمہ پر کریں تاکہ اس کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔ ولیس نے ابھی تک ملزمہ کے اہل خانہ یا دیگر رشتہ داروں سے تفتیش نہیں کی اور اب معاملہ ختم کرنے کے لیے ایک نیا بیان دے دیا ہے جس کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ ملزمہ کے ساتھ میرے بیٹے یعنی حریم کے والد نے تعلقات جوڑنے کی کوشش کی تھی لہذا انتقام کے طور پر مظاہرین کا قتل کیا۔ ملزمان نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ حریم فاطمہ کے والد میرے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے فون کالز کیا کرتے تھے۔میں نے اپنے بیٹے کا موبائل فون چیک کیا یہ موبائل میری بہو استعمال کرتی رہی ہے۔میری بہو نے بتایا کہ اس نے کئی بار شوہر کے موبائل سے رابعہ کے ساتھ رابطہ کیا ہے،دراصل رابعہ اور ہمارے گھر کے درمیان ایک دیوار کی دوری ہے اور اس کا روز ہمارے گھر آنا جانا ہے۔ ملزمان نے پولیس کو دیے گئے اقبال جرم میں صاف طور پر کہا ہے کہ اس کے ساتھ شریک جرم کوئی نہیں جبکہ قتل کی وجہ یہ تھی کہ ان کا مقابلہ بچی کے چچا کے ساتھ تعلقات تھے اور اسلام آباد میں مقیم بچی کے والد بھی انہیں فون کال کرکے سبز باغ دکھاتے تھے۔بچی کے دادا کا کہنا ہے کہ وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ بچی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی۔پہلی میڈیکل رپورٹ ہی ٹھیک تھی جس کو پولیس نے اپنی ناکامی کی وجہ سے غلط قرار دے دی،انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے قصور وار ہیں تو انھیں بھی گرفتار کیا جائے مگر وہ اصل مجرمان کو پکڑنے کا مطالبہ کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares