4 دن سے کھانا نہیں کھایا، بچے بھوک کی وجہ سے سو نہیں سکتے، کورونا سے بچیوں کو کام سے نکا ل دیا گیا، غریب خاندان کسی مسیحا کا منتظر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ جس میں ایک غریب خاندان کیسی مسیحا کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عید تو امیروں کی ہوتی ہے ہم جیسے غریبوں کی عید کہا ہوتی ہے۔ چھوٹی عید بھی ویسی گزری اور اب بڑی عید آ رہی ہے اس کے لئے بھی کچھ وسائل نہیں ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ایک طرف مچھروں سے سونے نہیں دیتا اور دوسری طرف بچوں کی بھوک سے نیند نہیں آتی۔ اور خود بھی بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔

اس خاندان نے پچھلے چار دن سے کچھ نہیں کھایا۔ اشرف خود سانس کا مریض ہے اور چل بھی نہیں سکتا ہے، اس کی چھ بیٹیاں ہیں کورونا وائرس آنے سے قبل اس کی دو بیٹیاں لوگوں کے گھروں میں جا کر کام کرتی تھیں۔ لیکن کورنا وباء آنے کے بعد ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔ اس خاندان نے چار دن سے کچھ نہیں کھایا ہے، خاتون خانہ کا کہنا تھا کہ زندگی بہت مشکل سے گزر رہی ہے نہ دوائی کے لئے پیسے ہیں نہ کھانے کیلئے، کوئی کاروبار نہیں ہے، میرا شوہر بیمار ہے، بہت مجبور ہوگئے ہیں۔ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،سب سے چھوٹی آٹھ سال کی بیٹی ہے جسے بھوک لگی تو چاچا کے ہاں چلی گئی، باقی خاموش ہوگئیں، خاتون نے کہا کہ کیاکرسکتے ہیں جب کچھ ہے ہی نہیں۔ بچے جب کھانا مانگتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ خاتون نے کہا کہ بیٹیاں کام کرتی تھیں تو گزارا ہوجاتا تھا، اب کوئی کام نہیں کرنے والا بھی نہیں ہے۔ بیٹے چھوٹے ہیں ہم انتظار میں رہتے ہیں، کہ کسی کی دیہاڑی لگ جائے اور ہم کھانا بنائیں، اب تو چار دن سے کچھ کھایا ہی نہیں ہے۔ اشرف نامی شخص نے بتایا کہ مالک نے کرایہ نہ دینے کی وجہ سے گھر کو تالا لگا دیا ہے،لاہور میں چھ سات سال سے بے یارومددگار ہوں،بیٹیوں کی شادی بھی کرنی ہے۔

اشرف نے بتایا کہ اگر مجھے مزدوری ملے بھی تو میں کام نہیں کر سکتا۔انہوں نے بتایا کہ نہ بجلی ہے نہ پانی ہے اور نہ گیس ہے، اس خالی پلاٹ میں بیٹھے ہیں کوئی امداد کو تیار نہیں ہے۔گھریلو مسائل سے اشرف اتنا تنگ ہے۔ لیکن ان کی مدد کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ یاد رہے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے ہمیں مدد کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالی اس چیز پر بہت خوش ہوتا ہے کہ جو ان کی بندوں کی مدد کریں اور ان کی وجہ سے خوش رہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کرے۔ اور اس طرح غریبوں کی عید کے موقع پر خاص خیال رکھیں۔ اگر ہو سکے تو ان کے بچوں کے لیے کپڑے خرید ہیں۔ بڑے تو پھر بھی گزارا کر لیتے ہیں لیکن چھوٹے بچے چاہیے امیر کی بیٹے ہو یا غریب کے ان کی خواہش ایک جیسی ہوتی ہے عید پر اچھے کپڑے پہننا۔ اللہ ہم سب کو مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *